خطبات محمود (جلد 4) — Page 233
خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۳ سال ۱۹۱۴ء کرنے والے کو بڑی ترقیات دیتا ہے۔سو تم یہ خیال مت کرو کہ تم نے بھی دین کی کوئی خدمت یا کام کیا ہے بلکہ تم خدا کا شکر کرو کہ اس نے تمہیں دین کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔تم اپنی خدمات کا خیال کبھی دل میں نہ لاؤ۔خوب یاد رکھو کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہم نے خدمات دین کیں انہیں کوٹھوکر لگتی ہے اور پھر ایسی ٹھوک لگتی ہے کہ پھر ان کو اُٹھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔پس تم یہ خیال نہ کرو کہ ہم نے یہ کام کیا ہے تمہاری ہستی ہی کیا ہے آنحضرت سلیم نے بھی کبھی نہیں کہا کہ میری وجہ سے اس طرح ہوا ہے۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی الی تم سے دریافت کیا گیا کہ حضور وفات کے بعد کہاں جائیں گے تو آپ نے فرمایا۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا تو جنت میں جاؤں گا۔انہوں نے عرض کیا۔کیا آپ کو بھی جنت میں جانے کی نسبت معلوم نہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ جنت میں جانا اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے۔وہ جس کو چاہے جنت میں داخل کر دے گا ہم تو نبی کریم سنی لیا کہ تم جیسے عظیم الشان انسان نے بھی اپنا جنت میں جانا اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر بتلایا۔اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے ایسے ایسے کام کئے ہیں اس لئے میں ضرور جنت میں جاؤں گا۔بلکہ آپ نے اعمال کو بیج سمجھا تو اور کون ہے جو اپنے اعمال پر بھروسہ رکھ سکے۔جب حضرت خَاتَمَ النَّبِینَ "جیسا انسان اتنی احتیاط کرتا ہے اور وہ بھی خدا کی قدرت اور جمال کو دیکھ کر اپنی کمزوری اور عاجزی کا اقرار کرتا ہے تو تمہاری کیا ہستی ہے۔پس تم اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا کرو۔اگر تمہارے ہاتھوں سے کوئی خدمت سرانجام ہو تو یہ نہ کہو کہ ہم نے ایسا کیا بلکہ خدا کا شکر کرو۔کیا لاکھوں انسان ایسے نہیں؟ جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم ہی نہیں۔انہیں آپ کی شناخت کا موقع نہیں ملا لیکن تم نے کیا کیا تھا کہ تمہیں شناخت کی توفیق ملی، یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا۔پھر کیا لاکھوں انسان ایسے نہیں ہیں جن کو آپ کی خبر ہوئی لیکن انہوں نے انکار کردیا لیکن تمہارے کون سے اعمال تھے کہ تمہیں مسیح موعود کے ماننے کی توفیق ملی۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ، رحم اور احسان ہی تھا اور کچھ نہ تھا۔پھر کیا ہزاروں انسان ایسے نہیں ہیں جنہوں نے وں نے آپ کا انکار تو نہیں کیا لیکن ان کو ایمان لانا نصیب نہیں ہوا لیکن تم میں کون سی خوبی تھی کہ تمہیں یہ موقعہ حاصل ہوا، یہ صرف خدا تعالیٰ کا فضل ہی تھا۔پھر کئی انسان ایسے ہیں جنہوں نے آپ کو مان کر انکار کر دیا لیکن تم