خطبات محمود (جلد 4) — Page 224
خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۴ سال ۱۹۱۴ء اس نے بادشاہ کی خدمت میں وہ فہرست پیش کر دی۔کہ دیکھئے حضور اندھے زیادہ ہیں سوجا کھے۔بادشاہ نے جب اپنا ہی نام سب سے پہلے دیکھا تو حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ حضور میں رہتی بٹ رہا تھا اور جو گزرتا تھا یہی پوچھتا تھا کہ کیا کر رہے ہوحالانکہ جو کچھ میں کر رہا تھاوہ ہر ایک کو نظر آتا تھا۔چونکہ یہ لوگ باوجود دیکھنے کے پھر پوچھتے تھے اس لئے میں نے ان کو اندھوں میں ہی لکھ لیا۔تو اس وزیر نے دنیا کے لحاظ سے ایک معقول بات کہی۔اور وہ یہ کہ دنیا کے لوگ بہت چیزیں دیکھتے ہیں لیکن ان کے نتیجہ تک نہیں پہنچتے۔ان لوگوں کو تو چاہئیے تھا کہ اس سے سوال کرتے کہ کیوں ایسا کر رہے ہو؟ نہ کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ یاکی اب اگر ہم اس اصل کے لحاظ سے دنیا میں غور کریں تو اندھے بہت زیادہ ملیں گے ایسے لوگوں کی گو جسمانی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن حقیقت کو نہیں دیکھتے۔ان کے جسمانی کان ہوتے ہیں لیکن اصلیت کو نہیں سنتے۔انکی جسمانی زبان ہوتی ہے لیکن حق کی بات نہیں پوچھتے اور اگر کسی کے یہ جسمانی اعضاء نہ بھی ہوں تو کیا ہے۔بڑی سے بڑی عمر انسان کی دو اڑھائی سو سال تک کی بھی اگر سمجھ لی جائے حالانکہ آج کل تو کوئی بھی اس عمر تک نہیں پہنچتا تو بھی ایک جسمانی اندھے کے لئے محدود زمانہ تک یہ تکلیف ہے لیکن روحانی اندھے کی حالت اس سے بہت بدتر ہوتی ہے۔مگر جب ہم دیکھتے ہیں تو جسمانی اندھے تھوڑے ہوتے ہیں مگر روحانی اندھے بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔وہ عبرت ناک نظائر دیکھتے ہیں مگر عبرت نہیں پکڑتے ، تباہیوں اور بربادیوں کے حالات سنتے ہیں ، مگر غور نہیں کرتے۔ایک جسمانی اندھا کیوں بُرا سمجھا جاتا ہے۔کسی کی آنکھیں ہیں اور کسی کی نہیں۔تو اس میں حرج ہی کیا ہوا۔یوں بھی تو دنیا میں ایک دوسرے انسان کے حالات میں فرق ہے۔ایک بڑھئی کا کام کرتا ہے تو دوسرا لوہار کا۔ایک ایک کام کرتا ہے تو دوسرا دوسرا۔اسی طرح اگر ایک کی آنکھیں ہیں اور ایک کی نہیں تو اس کو برا سمجھنے کی کیا وجہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ اس کی تمیز کرنے کی ایک حس جاتی رہی ہے اور وہ اپنے راستہ میں حائل ہونے والے گڑھے یا دیوار کو نہیں پہچان سکتا اور وہ اپنے آپ پر حملہ کرنے والے دشمن کو نہیں دیکھ سکتا۔اور نہ اپنے بچاؤ کی کوئی تدبیر کر سکتا ہے۔وہ نور اور ظلمت میں فرق نہیں کر سکتا اس لئے وہ اور وں سے زیادہ دکھ اور تکلیف میں ہے۔اور واقعی اس کیلئے بڑا دکھ ہے اس لئے وہ رحم کے قابل ہے۔مگر ہم