خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 203

خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۳ سال ۱۹۱۴ء یتیموں کے ساتھ نرمی اور ملاطفت کا حکم تھا لیکن ان کے مال و اموال بڑی دلیری سے کھائے جاتے ہیں۔مسکینوں کی خبر گیری ان کا فرض تھا لیکن حقارت نفرت سے ان کو دیکھا جاتا ہے اور ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔تمام بنی نوع کو نیک باتیں کہنی ان کا فرض تھا۔لیکن یہ آپس کے ہی دو آدمی جہاں اکٹھے ہوتے ہیں اتنا لڑتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئی ایسی مشتر کہ جماعت نہیں جو امن و امان سے کام کر رہی ہو۔ہندو، عیسائیوں اور سکھوں کی آپس میں صلح ہو سکتی ہے اور وہ مل کر کام کرتے ہیں لیکن مسلمان کبھی مل کر کام نہیں کرتے جہاں اکٹھے ہوتے ہیں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کو بتادیا تھا کہ ہم نے یہود کو یہ تعلیم دی تھی جو کہ اس سے پھر گئے یعنی تعلیم تو سچی تھی لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کیا پھر نماز اتنا بڑ ا فرض ہے اس کے تارک کو کافر کہا گیا لیکن اب بہت کم مسلمان ہیں جو پڑھتے ہیں۔پھر ز کوۃ کا اتنا بڑا حکم ہے کہ حضرت ابوبکرڑ نے نہ دینے والوں کو فاسق قرار دیا تھا اور ان سے بالکل کافروں جیسا سلوک کیا تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا بھی تھا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں ان سے کچھ تو رعایت کریں لیکن انہوں نے کچھ رعایت نہ کی ۲ اس وقت مسلمانوں میں سے دو فیصدی بھی ایسے نہیں جو کہ زکوۃ دیتے ہیں۔اس وقت ان حالات کو جو قرآن شریف نے یہودیوں اور عیسائیوں کے متعلق بیان کئے ہیں پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کے مسلمانوں کے حالات ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرما دے اور اپنی پناہ میں لے کر یہود صفت لوگوں سے علیحدہ رکھے اور اپنے فرمانبردار اور نیک بندوں میں داخل کر دے۔ل البقرة : ۸۴ الفضل ۲۹ اکتوبر ۱۹۱۴ ء ) تاريخ الخلفاء للسیوطی حالات سیدنا ابوبکر صفحہ ۵۵ مطبوعہ ۱۳۲۳ مطبع لکھنو۔