خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 190

خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۰ سال ۱۹۱۴ء ہے لیکن ان میں سے وہ کچھ نبیوں کی طرف ، کچھ اولیاء کی طرف اور دوسرے بزرگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اس کتاب کو کوئی بھی نہ مانے۔اور اس کے جمع کرنے والوں کی کوئی عزت نہ کرے اور نہ ہی انہیں کچھ روپیہ پیسہ مل سکے۔اس کتاب کے جمع کرنے والوں کی عزت تو ہوئی ہوگی لیکن انہوں نے روپیہ بھی بہت حاصل کیا ہوگا۔اور اب بھی ہے کما رہے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ ابھی یہ کتاب ولایت میں چھپی ہے جس کی قیمت ڈیڑھ سو روپیہ رکھی ہے گئی ہے۔مسلمانوں میں بھی یہ صفت پائی جاتی ہے۔آنحضرت سالی اسلام نے فرمایا تھا کہ مسلمان بھی ایک وقت میں یہود کی طرح ہو جائیں گے ۲؎ آج مسلمانوں میں بھی یہودیوں کی یہ صفت پائی جاتی ہے۔عجیب قسم کے قصے اور کہانیاں لکھتے ہیں پھر ان کو آنحضرت صلی ا یہ ستم کے معجزات قرار دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ خدا وند تعالیٰ نے آنحضرت صلی سیستم کی تصدیق اور اسلام کی تائید میں یہ واقعات ظاہر فرمائے ہیں۔حالانکہ بالکل جھوٹ اور افتراء ہوتا ہے۔کوئی ہرنی نامہ لکھتا ہے کوئی گوہ کا قصہ گھڑتا ہے کہ آنحضرت سائی یتیم کے دربار میں حاضر ہو کر اس نے بڑا فصیح و بلیغ عربی قصیدہ پڑھا تھا۔تو عجیب وغریب جھوٹے قصے بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ نشانات خداوند تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے جن سے اسلام کی تائید ہوتی ہے حالانکہ یہ اسلام کی ذلت اور بدنامی کا باعث ہوتے ہیں۔پھر مسلمان قرآن شریف کی ایسی تفسیر کرتے ہیں کہ ایک واقعہ جس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا ہے آنحضرت صلی یا ایلیم نے اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہوتا ، صحابہ کرام کی اس کے متعلق کوئی شہادت نہیں ہوتی لیکن مفسر صاحبان اپنی طرف سے جھوٹا واقعہ درج کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے حالانکہ محض افتراء ہوتا ہے۔ہمارے مقابلہ میں جو مسلمان ہیں ان کو دیکھ لو۔ہماری مخالفت میں بڑی بڑی کتا میں ہے لکھتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی رو سے ہم نے حیات مسیح کو ثابت کر دیا ہے۔لیکن اگر ایک دلیل بھی قرآن کی ان سے پوچھی جائے تو نہیں بتا سکتے۔لیکچروں اور وعظوں میں ہے بڑے زور سے کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن سے مسیح کا زندہ ہونا ثابت کر دیا ہے جو کہ محض جھوٹ ہوتا ہے اور وہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اس طرح کرنے سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ شہرت ہو۔کتابوں کی بکری زیادہ ہو، تو ایسا بہت لوگ کرتے ہیں کہ اپنی طرف سے قصہ گھڑ کر بیان کر دیتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب