خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 189

خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۹ (۴۲) سال ۱۹۱۴ء قرآن مجید کے معنی کرنے میں بہت احتیاط کرو (فرموده ۹۔اکتوبر ۱۹۱۴ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتب بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ الله لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ۔۔۔اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ یہود کی ایک اور خصلت بیان فرماتا ہے کہ ایک بات لکھتے پھر کہتے ہیں کہ یہ ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔اس سے ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ کچھ مال مل جائے ، آمدنی ہو جائے ، عزت بڑھ جائے۔یہود میں بہت کثرت سے اس قسم کے قصے ہمعجزات اور آیات مشہور ہیں۔اور بڑی بڑی کتابیں پائی جاتی ہیں۔جن کی کوئی اصلیت نہیں ہوتی لیکن وہ خدا کی طرف انبیاء اور اولیاء کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔چنانچہ اس وقت یہودیوں کے تمام عملیات کا دارو مدار ایک کتاب پر ہے جو کہ حضرت مسیح کے بھی بعد کی لکھی ہوئی ہے۔ٹائیٹس (TITUS) نے جب یروشلم کو تباہ کیا تو یہود نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ کتاب اس لئے تیار کی کہ ہماری حکومت تو تباہ ہو چکی ہے اور بیت المقدس بھی برباد ہو چکا ہے۔اب مذہب بھی نابود نہ ہو جائے۔اس وقت جو اقوال ان لوگوں کو یاد تھے وہ ایک جگہ جمع کر دیئے گئے۔اس میں ایسے ایسے عجیب و غریب قصے کہانیاں، اور واقعات درج ہیں کہ پڑھ کر حیرت آتی