خطبات محمود (جلد 4) — Page 187
خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۷ سال ۱۹۱۴ء اسلام بن گیا ہے جو کہ بہت افسوس اور شرم کی بات ہے۔کیا فائدہ ہے اس مسلمان کے جینے کو جو مسلم کہلاتا ہے مگر با وجود مسلم کہلانے کے نہیں جانتا کہ مسلم کے معنی کیا ہیں۔مسلم کہلانا مگر ایک دفعہ بھی اس کتاب کے پڑھنے کی طرف توجہ نہ کرنا جس کو خدا تعالیٰ نے لوگوں کے مسلم بنانے کے لئے بھیجا ہے۔تو کیوں پھر مسلمان اس مندرجہ بالا آیت کے مصداق نہ ہوں۔ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیئے کہ خواہ کوئی اسی برس کا بوڑھا ہی کیوں نہ ہو۔پھر بھی قرآن کریم کے پڑھنے اور معنی سیکھنے کی کوشش کرے۔کون کہتا ہے کہ بڑی عمر میں پڑھا نہیں جاتا جس طرح وہ دنیا کے کاموں میں محنت کرتے اور مشکلات اٹھاتے ہیں اور وقت صرف کرتے ہیں اگر اس کا نصف حصہ بھی قرآن شریف کے سیکھنے میں لگا ئیں تو سیکھ سکتے ہیں۔یہ ہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ کم از کم قرآن شریف کا تو ترجمہ پڑھ لے اور انسان اور با خدا انسان بنے نہ کہ میاں مٹھو بنے۔قرآن شریف کے معنی نہ سمجھنا اور یونہی پڑھنا میاں مٹھو بننا ہے۔پس ترجمہ سیکھو اور معنی اور مطلب سمجھوتا کہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کیا حکم دیتا ہے۔تم قرآن کے بامعنی پڑھنے کی کوشش کرو۔یہود کی طرح نہ بنو کیونکہ یہ صفت یہود کی ہے توریت ان کے پاس موجود تھی مگر وہ اس کے معنی نہیں جانتے تھے۔تم مسلمان بنو اور مسلمان ہو کر قرآن کے معنے سیکھو جب سیکھ جاؤ گے تو اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو گے اور جب عمل کرو گے تو خدا تعالیٰ کے مقرب بن جاؤ گے۔اپنا وقت نکال کر بوڑھے، جوان ، عورتیں بچے قرآن سیکھیں اور جہاں موقع پائیں کو تا ہی نہ کریں احمدی جماعت کو شرم کرنی چاہیئے کہ ابھی تک بہت حصہ نے قرآن نہیں سیکھا۔ہمارے لئے وقتیں بھی ہیں کہ احمدی بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں جن کی تربیت اور پڑھنے کا زمانہ گزر چکا ہوتا ہے مگر صحابہ میں ایسے آدمی پائے جاتے ہیں جنہوں نے بڑی عمر میں ہی دوسرے مذاہب کی کتابوں کو پڑھ کر فائدہ اٹھایا۔انگلستان میں ایک لاطینی زبان کا بڑا ماہر ہوا ہے۔جس نے ستر برس کی عمر میں علم سیکھا تھا۔تو تم قرآن کا ترجمہ سیکھو تا کہ خدا تعالیٰ کی وعید میں نہ آؤ۔جن کو قرآن آتا ہے وہ دوسروں کو پڑھانے کی کوشش کریں اور جن کو نہیں آتا وہ پڑھنے کی کریں۔مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے آنے کی وجہ یہی تھی کہ لوگ یہودی ہو گئے تھے۔اگر آپ کے آنے کے بعد بھی کوئی یہودی رہتا ہے تو وہ آپ کی بعثت کی غرض سے بالکل بے بہرہ ہے۔صحابہ کرام "