خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 8

خطبات محمود جلد ۴ آخری سال ہو۔زندگیوں کا کوئی اعتبار نہیں اس بابرکت گھڑی سے فائدہ اٹھاؤ۔خدا تعالیٰ رسم سے خوش نہیں ہوتا ہے کی بلکہ اس چیز سے خوش ہوتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔قربانی کرو کیونکہ خدا کے حضور قربانی کے سوال نہیں پہنچ سکتے۔تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تقویٰ تمام عملوں کی روح ہے۔تقویٰ کے معنی ہیں، اپنی خواہشوں کو خدا کے حضور قربان کر دینا۔حضرت صاحب رسول کریم مالی اسلم کا یہ ارشاد سنایا کرتے تھے کہ ابو بکر کو جو تم پر فضیلت ہے نماز اور روزے سے نہیں بلکہ اس شے کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔۳۔ایک دفعہ ایک مسئلہ پیش ہوا۔میں اس کا فیصلہ اس طرح کرنا چاہتا تھا جس طرح خلیفہ مسیح کا منشاء تھا۔مگر ایک دوست مجھے بار بار کہتا تھا کہ میاں صاحب تقومی کرو۔تقویٰ کر و آخر یہ بات خلیفہ المسیح تک پہنچی۔آپ نے فرمایا کہ اس کی عمر کا اپنی عمروں سے مقابلہ کر و۔جب یہ ہمارے منشاء کو سمجھتا ہے تو آپ لوگوں کو جو بڑی عمر کے ہیں، اس سے زیادہ سمجھنا چاہیئے۔غرض تقوی خواہش کی پیروی کا نام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا نام ہے۔اگر خدا کی فرمانبرداری میں انہیں کچھ مشکلات ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہے کہ میری زمین بڑی وسیع ہے۔یہ اجازت نہیں کہ اپنے بادشاہ کے خلاف تلوار میں لے کر کھڑے ہو جاؤ بلکہ ہجرت کر جاؤ اور صبر سے کام لو کیونکہ صابروں کو بغیر حساب دینے کا جو وعدہ ہے وہ پورا پورا دیا جائے گا۔پھر رسول اللہ لایا یہ تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ تو کہہ دے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت بڑے خلوص کے ساتھ کروں اور اس کا فرمانبردار بنوں کے جب خَاتَمَ النَّبِین کو یہ حکم ہے تو اور کون ہے جو عبادت سے مستثنی ہو سکتا ہے۔خدا کی کامل اطاعت و کامل فرمانبرداری کا نمونہ حضور کی ذات بابرکات ہے۔اسی واسطے حضرت عائشہ نے فرمایا۔كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن ھے یعنی قرآن میں جس قدر باتوں کے کرنے کا حکم ہوا ہے وہ آپ کرتے تھے اور جس قدر باتوں سے منع کیا گیا وہ آپ نہیں کرتے تھے۔کیسا پاک نمونہ ہے جو ہمارے لئے موجود ہے اور جس نمونے کو تازہ کرنے کیلئے اس صدی پر بھی ایک مامور آیا۔اور کیسی پاک تعلیم ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے۔عیسائی اگر شراب پئیں تو وہ معذور ہیں کیونکہ ان کا خداوند یسوع بھی شراب پیتا تھا۔- وام مارگی سے اگر شراب اور بے حیائی کی باتیں کرتے ہیں تو افسوس کی بات نہیں