خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 7

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۳ : ہوتا ہے جس کے جتلانے کیلئے رسول کریم ملایا کہ تم نے یہ فقرہ جاری کیا تھا۔اور کیا دوسرے بھائی کی نسبت یہ بھی خواہش موجزن ہوتی ہے کہ خدا اسے ہر شر سے بچائے ، ہر قسم کی فتنہ پردازی کو دور کرے، وہ خدا جس کا نام سلام ہے اسے محفوظ رکھے۔غرض ایسے بندے ہوتے ہیں جو اس طرح کام کرتے ہیں۔روزہ رکھیں گے پیاسے اور بھوکے رہیں گے۔نہایت پوشیدہ تعلقات کو ترک کر دیں گے مگر جو حقیقت روزوں کی علت غائی ہے اس کے حصول کی خواہش تک نہ کریں گے۔تیسرا گروہ وہ ہے جو خدا کے خوف وخشیت کے ماتحت اپنے تمام اعمال کرتا ہے یہ لوگ نماز اس لئے نہیں پڑھتے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ نماز نہیں پڑھتے۔اپنا جبینِ نیاز خدا کی درگاہ میں اس لئے نہیں رکھتے کہ لوگ انہیں بزرگ سمجھیں۔بھو کے اس لئے نہیں رہتے کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو روزے رکھتے پایا۔زکوۃ اس لئے نہیں دیتے کہ لوگ انہیں کہیں کہ یہ زکوۃ دیتے ہیں۔حج اس لئے نہیں جاتے کہ لوگ انہیں حاجی کہیں بلکہ ان کے تمام افعال اس ہستی کے خوش کرنے کیلئے ہوتے ہیں جو آسمان پر بڑے جلال کے ساتھ قائم ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی عبادتیں قبول ہوں گی۔خداوند تعالیٰ اپنے بندوں کو فرماتا ہے کہ تم نے تو دعوی کیا ہے کہ ہم ایمان لائے لیکن تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم دائم تقویٰ پر قائم نہ رہو اور اپنے رب کی خشیت تمہارے دلوں میں نہ ہو۔رسمی نمازیں تو یہودی بھی پڑھتے ہیں رسمی روزے تو ہندو بھی رکھتے ہیں بلکہ ہندو تو آٹھ رکھتے ہیں اور تین تین دن تک نہیں کھاتے۔مگر کیا وہ ان روزوں کے بڑے انعام پائیں گے؟ نہیں کیونکہ انہوں نے یہ کام تقویٰ اور فرمانبرداری کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا بلکہ عادتنا یا رسما ایسا کیا۔پس تم غور کرو کہ اگر مہینے تک تم نے تکلیف بھی اٹھائی اور کچھ فائدہ بھی نہ اٹھایا یعنی اپنے اندر کچھ تبدیلی نہ کی تو خیر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کے سوا اور کیا ہے۔یہ رمضان کا مہینہ بڑے انعامات کا بڑے خوف کا مہینہ ہے۔پس تم رمضان سے پہلے پہلے فیصلہ کر کے اپنے نفسوں میں تبدیلی کرو اور اِتَّقُوا رَبَّكُمْ ۲ کے ارشاد کی تعمیل کرو۔یہ جمعہ آخری جمعہ ہے۔جمعے کا روز بڑی برکات کا روز ہوتا ہے۔پھر یہ گھڑی بڑی بابرکت ہے جس میں خطیب خطبہ پڑھتا ہے۔پس تم اس مبارک گھڑی میں عہد کر لو کہ ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ہمارے سب عمل خدا کیلئے ہوں گے نہ کہ رسم و عادت کے طور پر۔کون جانتا ہے کہ مجھے اگلا مہینہ ملے گا یا نہیں۔شاید یہ دن آخری دن یہ مہینہ آخری مہینہ، یہ سال