خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 116

خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۶ سال ۱۹۱۴ء اسلام نے ایسے اصول مقرر فرما دیئے ہیں کہ جن پر انسان عمل کرتارہے تو وہ ادنیٰ و اعلیٰ میں امتیاز کر سکے۔مثلاً سب کاموں کے ابتداء میں بسم اللہ کہہ لینا ضروری رکھا تا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا ہر وقت خیال رہے۔اسی طرح کسی نعمت کے ملنے پر الحمد للہ کہنا سکھایا۔تا کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف ہی توجہ رہے اور وہ اسے خوش کرنے کی کوشش کرے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کے سامنے آ جاوے گی اور تمام کاموں میں اس کی نظر اسی کی طرف ہوگی۔اور اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ سمجھ لے کہ ان نعمتوں کی اللہ تعالیٰ کے مقابل پر جو دینے والا ہے کچھ قدر نہیں۔مگر باوجود اس کے بعض لوگ دنیاوی نعمتوں کی طرف جھک جاتے ہیں اور یاد الہی کو بھول جاتے ہیں اس کی وجہ نافہمی ہی ہوتی ہے۔اس جگہ بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے ان کو حکم ہوا تھا کہ اس شہر میں داخل ہو جاؤ، مگر میرے فرمانبردار رہنا اور دعائیں کرتے جائیں کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے اور نافرمانی نہ ہو۔مگر جب ان کو طرح طرح کی نعمتیں ملیں تو وہ یاد خدا کو بھول گئے اور لغویات میں مشغول ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔اور بجائے الہی باتوں کے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گئے آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک کر دیئے گئے اور تباہ کر دیئے گئے۔مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنتیں دیں۔اور پہلے فرما دیا کہ دیکھو تمہیں سلطنتیں ملیں گی لیکن تم خدا کو نہ بھولنا۔جب تک مسلمانوں نے خدا کو یا درکھا اور ہر کام میں اس کو مقدم رکھا تب تک وہ بڑے آرام میں رہے اور انہیں کوئی دکھ اور تکلیف نہ ہوئی لیکن جب انہوں نے ایسے ایسے کام کئے کہ یہود میں بھی شاید ہی ایسا ہوا ہو۔اور بے حیائی میں حد سے بڑھ گئے اتنا کہ بعض نے ایسا کام کیا کہ سیڑھیوں پر چڑھ رہے ہیں اور۔۔۔ادھر دربار لگا ہوا ہے اور اپنے پیچھے۔۔۔پہرہ کیلئے۔۔۔۔ہیں۔جب مسلمانوں نے ایسی ایسی خباثتیں کیں تو ان کی بھی وہی حالت کی گئی جو یہود کی ھے ہوئی اور ان کو ہلاک کر دیا گیا اور ان پر طرح طرح کے عذاب آئے جیسے ان کو انعام زیادہ ملے تھے ویسے ہی ان پر عذاب بھی زیادہ آئے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔اس لئے انسان کو چاہیئے کہ کسی دنیوی نعمت کے بدلے خدا تعالیٰ کو نہ چھوڑے۔کیسا ہی احمق ہے وہ شخص جو ایک عمدہ چشمے کو چھوڑ کر ایک پانی کا گلاس پسند کرتا ہے۔جو نعمتیں انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں ان کو اگر خیال کرے تو اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے۔کیونکہ اصل پہنچانے والا وہی ہے