خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 113

خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۳ سال ۱۹۱۴ء تھا وہ دستر خوان کس طرح اُترتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں اور اپنا جان و مال سب خدا کا کر دیتے ہیں آسمان ان کیلئے برستا ہے۔اور زمین ان کیلئے مختلف قسم کی عمدہ عمدہ چیزیں پیدا کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کے سہولت کے سامان ان کیلئے پیدا کر دیتا ہے۔حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ایک مرتبہ امرتسر سے آ رہے تھے بٹالے کو۔راستہ میں دھوپ کی سخت تکلیف تھی یکہ میں بیٹھنے لگے (ریل نہیں تھی تو ایک آدمی جو ہندو تھاوہ کو دکر پہلے اندر جا بیٹھا اور اپنے موٹاپے سے تمام یکہ کو اندر سے روک لیا۔اب حضرت صاحب کو دھوپ میں بیٹھنا پڑا۔اللہ تعالی نے فورا ایک بادل بھیج دیا جو امرتسر سے لے کر بٹالہ تک برابر آپ کے سر پر سایہ کرتا آیا۔تو ہر ایک شخص جو خدا کیلئے اپنی رضا کو چھوڑ دے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے خدا اس کیلئے سب سامان کر دیتا ہے۔بعض لوگ شکایت کرتے ہیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہو جاویں تو یہ زمین ان کی خادم بن جاوے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ رحمت کے سامان پیدا کر دے۔ان بنی اسرائیل نے مصر کو اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑا۔انہیں جنگل میں طرح طرح کی نعمتیں مل گئیں جو اللہ تعالیٰ کا ہو جاوے اگر چہ تمام کی تمام دنیا اور تمام دُنیا کے بادشاہ اور ہر ایک فردان کا مخالف ہو جاوے اور ان کے مقابلہ کے لئے نکلے تو بھی وہ اسے ضرر نہ دے سکیں گے۔کوئی طاقتور سے طاقتور دشمن بھی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ اسے ایک پل میں تباہ کر سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ اپنی حالتوں میں تبدیلی پیدا کرو۔دعاؤں میں لگے رہو غفلتوں اور سستیوں کو ترک کر دو۔بس پھر خدا تعالیٰ تمہارا ہو گا تم اس کے ہو جاؤ۔جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو س مسیح نے کہا ہے پہاڑ تمہارے اشارے سے چلنے لگیں اور پانیوں پر تمہاری حکومت ہو ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ پہاڑوں جیسے بڑے لوگ تمہارے کہے پر چلیں اور پانی جیسی خطرناک چیز جس میں انسان غرق ہو جاوے وہ تمہارے قابو میں آ جاوے مگر شرط یہی ہے کہ خلوص ہو۔قوم موسیٰ نے تو اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ کو مانا اور اس کے ساتھ جنگل کو چلے گئے ان کے اس خلوص کی وجہ سے ان کو جنگل میں بھی نعمتیں ملیں۔تو اس شہر میں جہاں کہ اس کے فضل کے بڑے بڑے وعدے ہیں یہاں ذرا سی تبدیلی کی ضرورت ہے۔وَمَا ظَلَمُونَا وَلكِن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ۔ہم نے ان کو انعام دیئے اور ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ بڑے پر