خطبات محمود (جلد 4) — Page 96
خطبات محمود جلد ۴ ۹۶ سال ۱۹۱۴ء ہوسکتا ہے؟ اس کا تعلق تو ہر ایک چیز سے ایک جیسا ہی ہے۔اس لئے جو کوئی بھی اس کے حضور گر جائے اور اس کے دین کی خدمت کرے اور اپنے گناہوں سے تو بہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے وہ کبھی ضائع نہیں ہوسکتا ہے۔ہر زمانے میں ایسے آدمی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو مار کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا ہے۔اور پھر ان کو بڑی بڑی کامیابیاں بھی نصیب ہوئی ہیں۔یہی ہندوستان دیکھ لو اور ہندوؤں کی حالت پر نظر کرو۔جواب پتھر کے بت اپنے ہاتھوں سے بنا کر ان کے آگے گرتے ہیں حالانکہ پتھر کی جو کچھ حیثیت ہے وہ ان کو خوب معلوم ہے۔رسول کریم صلی نام کے ایک صحابی فرماتے ہیں کہ مجھے بت پرستی سے اس طرح نفرت ہے ہوئی کہ میں ایک دفعہ سفر کو چلا اور بت کو اپنے ساتھ لیا۔راستے میں مجھے ایک جگہ سے کوئی چیز لانے کی ضرورت ہے پڑی۔میرے پاس بو جھ تھا۔میں نے بوجھ کو رکھ کر اس کے پاس بت کو کھڑا کر دیا اور کہا کہ میرے مال کی حفاظت کرتے رہنا۔لیکن جب میں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گیدڑ ٹانگ اٹھا کر اس کے سر پر پیشاب کر رہا ہے۔میں نے خیال کیا کہ میں اس کو پوجتا ہوں جس کو اتنی بھی طاقت نہیں کہ گیدڑ کی ٹانگ توڑ دے تو اس نے مجھے کیا فائدہ پہنچانا ہے۔مجھے اس سے ایسی نفرت ہوئی کہ میں نے اسی وقت اس کو توڑ دیا ۲؎ یہ تو بتوں کی طاقت ہے لیکن ہمیں دیکھنا یہ چاہیئے کہ ان ہندوؤں کی ابتداء کہاں سے شروع ہوئی ہے۔انہی بت پرستوں کے اندر ہمیں ایسے ایسے بہت سے نام ملتے ہیں جن کی وفات پر ہزاروں سال گزر گئے ہیں لیکن اب بھی کروڑوں انسان ان کے نام پر اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور ایسی قوم میں جو پتھر ایسی بے حقیقت چیز کے آگے سجدہ کرتی ہے ان کی عزت و توقیر چلی آتی ہے۔پارسیوں میں زرتشتیوں میں، بدھوں میں، یہودیوں میں غرضیکہ ہر قوم میں ایسے آدمیوں کے نام پائے جاتے ہیں جنہوں نے خدا سے تعلق پیدا کیا۔اور باوجود یکہ اب وہ قو میں گر گئی ہیں لیکن ان کے نام میں عزت میں اور تو قیر میں کوئی فرق نہیں آیا۔وہ لوگ جو حریت کا دم بھرنے والے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کی ماتحتی نہیں کر سکتے یعنی اہل یورپ ان کی بھی مسیح کے نام پر گردنیں جھک جاتی ہیں۔اور مسیح کا نام لکھتے وقت Our Lord ہی لکھتے ہیں۔مسلمان خواہ کتنے ہی شریر ، بدکار، زانی، فاسق فاجر کیوں نہ ہوں لیکن جب آنحضرت صلہ اسلام کا نام آئے تو بے اختیار ان کے منہ سے سالی یا اینم کا کلمہ جاری