خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 95

خطبات محمود جلد ۴ ۹۵ (۲۳) اللہ تعالیٰ کے حضور گرنے والے کے اعمال ضائع نہیں جاتے۔فرموده ۲۲۔مئی ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:۔يبنى إسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ وَإِذْ نَجَيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَ كُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے حضور جو شخص گرتا ہے اور پناہ چاہتا ہے، خواہ وہ کسی قوم کا یا کسی مذہب کا یا کسی ملک کا ہو اس کے اعمال ضائع نہیں جاتے۔یہ صرف تنگدل اور ان لوگوں کا کام ہے جو وسعت حوصلہ نہیں رکھتے اور جن کی شفقتیں اور عنایتیں اپنے رشتہ داروں، بھائیوں اور بیٹوں کیلئے مخصوص ہوتی ہیں، ایسے لوگوں کی نظریں اپنے لواحقین تک ہی محدود رہتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے۔انسانوں میں سے کوئی شام کا ہو یا عرب کا ، ایران کا ہو یا مصر کا ، ہندوستان کا ہو یا انگلستان کا ، ایشیاء کا ہو یا یورپ کا غرض کسی جگہ کا رہنے والا ہو وہ خدا کی مخلوق ہے۔پھر انسان ہی نہیں بلکہ جمادات اور نباتات بھی خدا ہی کی مخلوق ہیں۔تو جب سب کچھ اسی کا ہے تو صرف ایک خاص گروہ سے اللہ تعالیٰ کا تعلق کس طرح