خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 81

خطبات محمود Al کے لئے چلتی ہیں اور کوئی حد بندی ان کی نہیں ہوتی۔نادان کہتا ہے کہ محدود اعمال کے نتائج غیر محدود کیوں ہوں حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ محدود کے نتائج غیر محدود نہیں بلکہ غیر محدود ہستی کی طرف سے غیر محدود انعام ملتے ہیں۔معترض انسان کو دیکھتا ہے دینے والے کو نہیں دیکھتا۔دو آدمیوں کا معاملہ ہو تو بڑے کی جانب نظر کی جاتی ہے پس جب خدا اور بندے کا معاملہ پیش ہو تو نادان یہ کیوں نہیں دیکھتا کہ بندے کے ساتھ معاملہ کرنے والا خدا ہے۔وہ خود بھی غیر محدود اس کے انعامات بھی غیر محدود - کوئی نعمت ایسی نہیں جس کی نسبت خدا نے فرمایا ہو کہ میں یہ نہیں دوں گا۔دنیا کے بادشاہوں کی طرف سے ایسی تقسیم اور حد ہوتی ہے مگر خدا کی طرف سے کوئی حد نہیں صرف یہ ہے کہ انسان قابلیت اور اہلیت رکھتے ہوں۔بادشاہت کی ضرورت ہے بادشاہت دے گا، اگر علم کی ضرورت ہے علم دے گا، اگر غیب کی ضرورت ہے تو اسے بھی اس موقع پر حوالہ کر دیتا ہے جتنے غیب کی ضرورت پیش آئے اتنا اس وقت دے دیتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں سب نمونے موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود کے زمانے میں کتنے لوگوں نے مخالفت کی مگر مخالفت کا نتیجہ کیا ہوا۔حضور کی کامیابی اور مخالفین کی ناکامی۔عالم مقابل پر کھڑے ہوئے اور حضرت صاحب کو جاہل کہا۔خدا نے فرمایا اگر یہ جاہل ہے تو ہم اسے اپنے خزانے سے علم دیتے ہیں اب آؤ اس کا مقابلہ کرو۔چنانچہ حضور نے انعام پر انعام مقرر کر کے کتابیں لکھیں اور تحدی کی کہ ان کی مثل لاؤ مگر ان مدعیان علم میں سے کوئی مقابلہ پر نہ آسکا۔کچھ عرصہ ہوا یہاں مارگولیتھ سے آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ مشاہدہ بڑی چیز ہے یا قیاسی بات کہنے لگا مشاہدہ۔اس پر میں نے کہا معجزات پر آپ کو شک ہے اگر ان کا مشاہدہ آپ کو ہو جائے تو پھر آپ کو ماننا پڑے گا۔اس پر وہ کہنے لگا کیا قرآن میں جو کچھ ہے اس کا مشاہدہ ہو سکتا ہے میں نے کہا ہو سکتا ہے۔قرآن مجید کا معجزہ یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔یہ معجزہ اس زمانے میں بھی دکھایا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا اور انعام پر انعام مقرر کر کے اپنی کتاب کی مثل لانے کا چیلنج دیا چنانچہ وہ کتابیں ابھی لاجواب پڑی ہیں۔آپ کو بھی عربی دانی کا دعوی ہے آپ ہی ہمت کریں۔تو یہ ایک خزانہ تھا کون ان خزانوں کی حد بندی کر سکتا ہے۔کیا کسی بندے کو کوئی بادشاہ یہ علم دے سکتا ہے۔وہ تو اپنے لئے بھی نہیں لا سکتا۔بادشاہ جرنیلوں کو بھیجتے ہیں اور میدان جنگ میں مارے جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ