خطبات محمود (جلد 3) — Page 67
جلد موم 46 19 نکاح میں تقویٰ سے کام لو (فرموده ۵- نومبر ۱۹۲۰ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۵ - نومبر ۱۹۲۰ ء بعد نماز عصر ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : یہ چند آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالٰی نے مسلمانوں کو کہا ہے کہ سب سے بڑی چیز جو ان کے لئے کار آمد اور مفید ہو سکتی ہے تقویٰ ہے۔دنیا میں ہر وقت انسان یا تو بعض چیزوں کے حاصل کرنے یا بعض سے بچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ایک طرف اگر وہ اپنے آپ کو کسی زد سے بچانے میں لگا ہوتا ہے تو دوسری طرف بعض چیزوں کے لینے میں مصروف ہو تا ہے۔یہی معنے تقوی کے ہیں۔ہماری زبان میں تقویٰ کے معنے ڈر اور خوف کے لوگ کرتے ہیں۔مگر عربی زبان کے لحاظ سے یہ معنے درست نہیں بلکہ اس کے معنے ہیں اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے ایسی چیزوں سے جو انسان کی ہلاکت اور نقصان کا موجب ہوں اور ایسی چیزوں کا حاصل کرنا جو ہلاکت سے بچاتی ہوں۔تقویٰ کے معنے خدا تعالیٰ سے ہوا کی طرح ڈرنا اور خوف کھانا نہیں اس ڈر کے لفظ سے بہت لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور عیسائی اس کو مد نظر رکھ کر کہتے ہیں کہ قرآن نے خدا کو نہایت ڈراؤنی اور خوفناک شکل میں پیش کیا ہے حالانکہ یہ درست نہیں اور خوف ڈراؤنی چیز سے ہی نہیں ہوتا۔دیکھو بچے ماں باپ سے ڈرتے ہیں لیکن اس کے معنے ماں یا باپ کی ناراضی سے ڈرتا ہے۔یہ نہیں کہ ماں باپ ظالم ہوتے ہیں اس لئے بچے ان سے ڈرتے ہیں۔ماں باپ کا ڈر