خطبات محمود (جلد 3) — Page 673
خطبات جلد سوم مت ہے۔صالح شبیبی ایک مخلص انڈو نیشین نوجوان ہیں اور عربی النسل ہیں۔وہ انڈونیشین بھی ہیں اور عرب بھی ہیں۔یہاں ربوہ میں عرصہ تک پڑھتے رہے ہیں۔اب وہ دلی میں اپنی انڈو نیشین ایمبیسی میں ملازم ہیں اور زندگی بھی انہوں نے وقف کی ہوئی ہے۔چھٹا نکاح سیدہ ناصرہ خاتون بنت ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب کا میجر انور احمد صاحب سے قرار پایا ہے۔ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب ایک نہایت ہی پرانے احمدی خاندان میں سے ہیں ان کے والد سید فضل شاہ صاحب حضرت صاحب کے نہایت ہی مکرم صحابی تھے اور عام طور پر حضرت صاحب کی خد کیا کرتے تھے اور اکثر قادیان میں آتے جاتے تھے۔سید ناصر شاہ صاحب اوور میئر جو بعد میں شاید ایس ڈی او ہو گئے تھے ان کے بھائی تھے۔ان میں بھی بڑا اخلاص تھا اور وہ بھی حضرت صاحب کو بہت پیارے تھے اور وہ بھی اپنے اخلاص کی وجہ سے اپنے بھائی کو کہا کرتے تھے کہ کام کچھ نہ کرو، قادیان جا کے بیٹھے رہو حضرت صاحب سے ملاقات کیا کرو، مجھے کچھ ڈائریاں بھیج دیا کرو، کچھ دعاؤں کے لئے کہتے رہا کرو، اخراجات میں بھیجا کروں گا چنانچہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتے رہتے تھے محض اسی وجہ سے کہ وہ قادیان میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وحی جس کے شروع میں الرحی لے آتا ہے اور جو خاص ایک رکوع کے برابر ہے وہ ایسی حالت میں نازل ہوئی جب کہ حضرت صاحب کو درد گردہ کی شکایت تھی اور وہ آپ کو دبا رہے تھے۔گویا ان کو یہ خاص فضیلت حاصل تھی کہ ان کی موجودگی میں دباتے ہوئے حضرت صاحب پر وحی نازل ہوئی اور وحی بھی اس طرز کی تھی کہ کلام بعض دفعہ اونچی آواز سے آپ کی زبان پر بھی جاری ہو جاتا تھا۔مجھے یاد ہے ہم چھوٹے بچے ہوتے تھے کہ ہم بے احتیاطی سے اس کمرہ میں چلے گئے جس میں حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے آپ نے اوپر چادر ڈالی ہوئی تھی اور سید فضل شاہ صاحب - مرحوم آپ کو دبا رہے تھے ان کو محسوس ہوتا تھا کہ رحی ہو رہی ہے انہوں نے اشارہ کر کے مجھے کہا یہاں سے چلے جاؤ چنانچہ ہم باہر آگئے بعد میں پتا لگا کہ بڑی لمبی وحی تھی جو نازل ہوئی تھی۔ساتواں نکاح طاہرہ زکیہ صاحبہ بنت میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ کا ڈاکٹر محمد حسین صاحب ساجد سے قرار پایا ہے۔آٹھواں نکاح مسعود احمد صاحب ابن چوہدری نذیر احمد صاحب کا عطیہ صاحبہ بنت چوہدری شکر اللہ خاں صاحب سے قرار پایا ہے۔