خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 641

خطبات محمود جلد سوم چونکہ موجودہ وقت میں وہاں قریباً ۳۲۰ افراد فروکش ہیں جن میں سے بعض نوجوان ہیں اور بعض بوڑھے اور بعض ادھیڑ عمر کے بھی ہیں بلکہ بعض ایسی عمر کو پہنچ چکے ہیں جو چند سالوں کے بعد ہم سے جدا ہو جائیں گے۔اس طرح وہاں کے مقیم لوگوں کی تعداد دن بدن کم ہونی شروع ہو جائے گی اور پاکستان سے وہاں جانے میں چونکہ بعض رکاوٹیں ہیں اس لئے یہی مناسب سمجھا گیا ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہندوستان کے رہنے والوں سے شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے۔اس طرح کرنے سے ایک تو آبادی بڑھ جائے گی مثلاً اگر پچاس شادیاں ہو جائیں تو لازماً پچاس خواتین کی آمد سے پچاس افراد کا اضافہ ہو جائے گا اور پھر افزائش نسل کو سے انشاء اللہ تدریجی ترقی ہوتی چلی جائے گی اس لئے گزشتہ ایام میں سب سے پہلا نکاح قادیان میں ہوا تھا اور اب یہ دوسرا نکاح چوہدری سعید احمد صاحب کا سیٹھ خیر الدین صاحب آف لکھنو کی صاحبزادی کے ساتھ تجویز کیا گیا ہے۔سیٹھ صاحب بڑے مخلص، نیک اور اعلیٰ قربانی کرنے والے فرد ہیں اور وہاں کی جماعت کے پریذیڈنٹ بھی ہیں۔پارٹیشن کے بعد جب کہ میں نے مالی مشکلات کے پیش نظر چندوں کے اضافہ کی تحریک کی تھی تو انہوں نے اپنی آمد کے تیسرے حصہ کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا اور دریافت کرنے پر پتہ چلا ہے کہ وہ اس وقت سے مسلسل - /۔سے ہزار روپیہ تک ماہوار چندہ ادا کر رہے ہیں۔لہذا امید کی جاتی ہے کہ یہ رشتہ جانبین کے لئے مبارک اور بابرکت ہو گا۔سیٹھ خیر الدین صاحب نے اپنی اور اپنی لڑکی کی طرف سے مفتی محمد صادق صاحب کو ولی مقرر کیا ہے اور سعید احمد صاحب نے اپنے والد چوہدری فیض احمد صاحب کو جو یہاں ہی مقیم ہیں ولی مقرر کیا ہے لہذا میں اس نکاح کا اعلان کرتا ہوں۔۵۰۰ الفضل ۲۳- اپریل ۱۹۵۰ء صفحه ۱۷۳) له لے اس کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا جو مضمون الفضل -۱۶ اپریل ۱۹۵۰ء صفحہ کے پر شائع ہوا ہے وہ بھی خطبہ سے مناسبت کی وجہ سے ذیل میں مندرج ہے: مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۵۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ربوہ کے مرکز میں بعد نماز عصر چوہدری سعید احمد صاحب بی اے درویش قادیان اور طاہرہ بیگم بنت سیٹھ خیر الدین صاحب لکھنو کے نکاح کا اعلان چار ہزار روپیہ مہر پر فرمایا۔حضور نے اپنے خطبہ نکاح میں اس شادی میں خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے ہر دو خاندانوں کے اخلاص اور خدمت اور دینداری کا ذکر فرمایا۔چنانچہ چوہدری سعید احمد صاحب بی اے درویش قادیان کے متعلق حضور نے فرمایا کہ وہ چوہدری غلام محمد صاحب سکنہ پوہلا مہاراں ضلع سیالکوٹ کے ہوتے ہیں جو پرانے صحابی ہونے کے علاوہ بڑے مخلص اور اپنی جماعت کے امیر اور ایک با اثر اور معزز بزرگ ہیں اور خود چوہدری سعید احمد نے اپنی دنیوی ترقی کو خیر باد کہتے ہوئے (کیونکہ ان کے لئے ابی۔اے۔سی میں منتخب ہونے کی تجویز ہو چکی تھی۔قادیان میں درویشی زندگی کو ترجیح دی اور ان کے والد چوہدری فیض احمد صاحب انسپکٹر بیت المال ربوہ بھی ایک مخلص کارکن ہیں دوسری طرف سیٹھ