خطبات محمود (جلد 3) — Page 514
طبات ۵۱۴ جلد سوم صرف جوتیوں میں بیٹھنے کی جگہ رہ گئی۔رؤساء وہاں آکر بیٹھے اور پھر اٹھ کر ڈیوڑھی میں چلے گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا۔ہم کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا مکہ کے رئیں اور یہ کون لوگ ہیں جن کو مجلس میں جگہ دی گئی ؟ انہوں نے خود ہی کہا مکہ کے وہ ذلیل ترین لوگ جو ہمارے خدمت گزار ہوا کرتے تھے۔پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کیا تم نے دیکھا کہ آج ہم سے کیا سلوک ہوا ہے۔ایک ایک کر کے فقیر اور غریب لوگ آگے بٹھائے گئے اور عمر نے ان کو ہم پر ترجیح دی۔یہاں تک کہ ہم کو جوتیوں میں بیٹھنا پڑا۔کیا اس سے بڑھ کر ہماری کوئی اور بھی ذلت ہو سکتی ہے۔ان میں سے ایک جو زیادہ شریف الطبع تھا اور اپنے اندر روحانیت رکھتا تھا اس نے کہا یہ بالکل ٹھیک ہے کہ یہ ذلت ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے مگر کیا ہم خود اس ذلت کے ذمہ دار نہیں۔ہم نے محمد اس کا مقابلہ کیا اور آپ پر ایمان لانے والوں کو دکھ دیا مگر یہ وہ لوگ تھے جو آپ کے ساتھ رہے پس اب ہمارا اور ان کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔وہ لوگ بھی اس بات کو سمجھ گئے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ سب کچھ ہماری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔مگر انہوں نے کہا اب اس کا کوئی علاج بھی ہو سکتا ہے اور کیا کوئی ایسی صورت نہیں ہو سکتی جس سے ذلت اور رسوائی کا یہ بد نما داغ ہم سے دور ہو سکے۔تب وہی جو ان سب میں سے زیادہ سمجھدار تھا پھر بولا اور اس نے کہا۔عمر سے ہی اس کا علاج دریافت کرنا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے اجازت مانگی اور وہ آپ کی خدمت میں جا کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے آج جو کچھ ہم سے سلوک ہوا ہے ہم اس کے بارہ میں کچھ عرض کرنے آئے ہیں۔حضرت عمر بھی اللہ کا خاندان انساب عرب یاد رکھنے میں نہایت مشہور تھا اور آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ خاندانی لحاظ سے کس عظمت کے مالک ہیں۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو ڈیڈ یا آئے اور آپ نے فرمایا میں سمجھتا ہوں مگر میں معذور ہوں تم جانتے ہو یہ وہ لوگ ہیں جو رسول کریم ﷺ کے صحابی ہیں اور اس وجہ سے میرا فرض تھا کہ میں ان کو مقدم رکھتا۔انہوں نے کہا ہم یہ بات سمجھ کر آئے ہیں۔مگر اب ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اب کوئی ایسی صورت نہیں جس سے یہ بد نما داغ ہم سے دور ہو سکے۔حضرت عمر بھی اللہ بڑے رقیق القلب تھے یہ سنتے ہی آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام نظارہ آگیا کہ کس طرح یہ لوگ لمبی لمبی تہبندیں باندھ کر بیٹھا کرتے تھے اور لوگ ان کے سامنے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ جو ڑا کرتے تھے کہ آپ ہمارے بادشاہ اور سردار ہیں۔اور پھر کس طرح