خطبات محمود (جلد 3) — Page 515
خطبات محمود ۵۱۵ جلد سوم اس سرداری اور حکومت کے گھمنڈ میں وہ مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے۔یہ تمام نظارے یکے بعد دیگرے آپ کی آنکھوں کے سامنے آگئے اور آپ پر اس قدر رقت طاری ہوئی کہ الفاظ آپ کے منہ سے نہیں نکل سکے آپ نے کوشش کی کہ زبان سے ان کی بات کا جواب دیں مگر رقت کے غلبہ کی وجہ سے آپ جواب نہیں دے سکے۔صرف آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور شمال کی طرف جہاں ان دنوں لڑائی ہو رہی تھی اشارہ کر کے کہا۔وہاں۔یعنی اب تمہاری اس ذلت کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ تم یہاں سے چلے جاؤ اور اس جہاد میں شامل ہو جاؤ جو شام میں کفار سے کیا جا رہا ہے اور وہاں مارے جاؤ۔چنانچہ وہ خاموشی سے اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ہم ممنون ہیں کہ آپ نے ہمیں یہ مشورہ دیا۔ہم اب اس مشورہ پر عمل کر کے رہیں گے چنانچہ وہ چھ نوجوانوں کا قافلہ وہاں سے نکلا اور چھ کے چھ ہی شام میں مارے گئے ان میں سے ایک بھی مکہ واپس نہیں آیا۔کہ اس واقعہ سے ہمیں ایک عظیم الشان سبق ملتا ہے اور وہ یہ کہ یہی غم کے حالات ہمارے لئے بھی کمال خوشی اور ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیں اور بشر طیکہ ہم کلیتہ خدا تعالیٰ کے ہو جائیں جس خدا نے ابو طالب کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے بھتیجے کو عظیم الشان ترقی دی اور اسے انتہائی کمال عطا فرمایا اس خدا کے خزانے آج ختم نہیں ہو گئے۔آج بھی اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔آج بھی وہ اپنے پیاروں کی خاطر اسی قسم کے نظارے دکھانے کی قدرت رکھتا ہے۔چنانچہ بعینہ اسی قسم کا نظارہ خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق دکھایا۔آپ فرماتے ہیں۔لَفَاظَاتُ المَوَائِدِ كان اكلي وَصِرتُ اليومَ مِطَعَامَ الأهالى ثم کہ کسی دن میرا یہ حال تھا کہ لوگ اپنے دستر خوان سے بچا کھچا اٹھا کر میرے آگے رکھ دیتے اور جو کچھ وہ دیتے میں کھا لیا کرتا مجھے ان سے جو کچھ ملتا میں اسے ان کا رحم سمجھتا تھا یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ اس چیز پر میرا کوئی حق بھی ہے مگر آج وہ دن ہے کہ گھروں کے گھر اور خاندانوں کے خاندان میرے ذریعہ پل رہے ہیں۔میں نے بعض بوڑھے لوگوں سے اپنی تائی صاحبہ کے متعلق سنا ہے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے وہ بعد میں احمدی بھی ہو گئیں اور موصیہ بھی بن گئیں اور اب بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں۔مگر لوگ سنایا کرتے تھے کہ جوانی کے ایام میں