خطبات محمود (جلد 3) — Page 498
خطبات محمود ۴۹۸ جلد سوم چھوڑ کر ہم عصر کی نماز کو چلے گئے عصر کی نماز پڑھی تو خیال تھا کہ اب تو شام تک حقہ کے لئے آزادی ہوگی کہ کسی نے کہا بڑے مولوی صاحب مسجد اقصیٰ میں چلے گئے ہیں اور وہاں قرآن کریم کا درس ہو گا۔ہم نے سمجھا تھا کہ اب شام تک حقہ پینے کا موقع ملے گا پر خیر اب آئے ہیں تو قرآن کریم کا درس بھی سن ہی لیتے ہیں۔بڑی مسجد میں گئے درس سنا اور سن کر واپس آئے تو مغرب کی اذان ہو گئی اور حقہ اسی طرح دھرا رہا اور ہم مغرب کی نماز کے لئے چلے گئے۔نماز پڑھ کر پھر مرزا صاحب بیٹھ گئے اور ہم بھی مجبور آبیٹھ گئے کہ مرزا صاحب کی باتیں سن لو۔آخر وہاں سے آئے اور سوچا کہ اب شاید حقہ پینے کا موقع ملے لیکن کھانا آگیا اور کہنے لگے کھانا کھالو پھر حقہ پینا۔شام کا کھانا بھی کھالیا اور خیال کیا کہ اب تسلی سے حقہ کے لئے بیٹھیں گے کہ عشاء کی اذان ہو گئی اور لوگ کہنے لگے نماز پڑھ لو خیر عشاء کی نماز کے لئے بھی چلے گئے۔نماز پڑھ کر خدا کا شکر کیا کہ اب تو اور کوئی کام نہیں رہا اب پوری فرمت ہے اور حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی حقہ سلگایا ہی تھا کہ پتہ لگا کہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو عشاء کے بعد بڑے مولوی صاحب کچھ وعظ و نصیحت کیا کرتے ہیں۔اب بڑے مولوی صاحب وعظ کرنے لگ گئے۔وہ ابھی وعظ کر ہی رہے تھے کہ سفر کی کوفت اور تکان کی وجہ سے ہم کو بیٹھے بیٹھے نیند آگئی پھر پتہ ہی نہیں کہ ہم کہاں ہیں اور ہمارا حقہ کہاں ہے۔صبح جو اٹھا تو میں تو اپنا بستر اٹھا کر وہاں سے بھاگا کہ قادیان میں شریف انسان کے ٹھرنے کی کوئی جگہ نہیں۔اب دیکھو یہ حقہ کی قید لوگوں نے خود ہی اپنے اوپر لگا رکھی ہے۔کسی زمیندار کو دیکھ لو وہ دو دو تین تین گھنٹے روزانہ اور بیسیوں کام چھوڑ کر اور اپنا حرج کر کے بھی حقہ کے لئے ضرور وقت دے گا۔اور جو لوگ اکٹھے بیٹھ کر حقہ پینے کے عادی ہیں وہ جتنا وقت صرف کرتے ہیں وہ دو تین گھنٹے سے قطعا کم نہیں ہو تا، مگر نماز کے لئے دیکھو دن رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں اور فی نماز پانچ چھ منٹ لگتے ہیں بلکہ ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ حنفیوں کی نماز پر تو دو تین منٹ سے زائد وقت لگتا ہی نہیں۔اب کو اپنی مرضی سے جسے خدا توفیق دے وہ ایک نماز کے لئے گھنٹہ گھنٹہ لگا لے مگر عام طور پر آٹھ دس منٹ ہی لگتے ہیں اور اس طرح پانچوں نمازوں پر پچاس منٹ یا ایک گھنٹہ صرف ہو گا مگر پھر بھی جب تم ان کو نماز کے لئے کہو گے، تو وہ یہی کہیں گے کہ کون نماز پڑھے وقت بالکل نہیں ملتا حالانکہ اور جگہوں پر وقت خرچ کرنے کی قید لگی ہوئی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے وہ قید لگائی ہے جو محمد رسول اللہ ا نے نہیں