خطبات محمود (جلد 3) — Page 35
۳۵ جلد سوم یہی حال اللہ تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کا ہوتا ہے جس وقت وہ دنیا میں آتے ہیں اس وقت ان کی حیثیت اس کو نیل کی طرح ہوتی ہے جو نکل رہی ہوتی ہے یا اس بچہ کی طرح ہوتی ہے جو جاہل اور نادان عورتوں میں پرورش پاتا ہے۔لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے اس کی ابتدائی حالتوں کو دیکھ کر ہنتے اور اس کی حرکتوں پر قبضے لگاتے ہیں مگر ان کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ الصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَو كَانَ نَبيَّا لے جس طرح عورتیں نہیں جانتیں کہ آج جس قدر بچے کی حرکات پر ہم حیرت کا اظہار کر رہی ہیں۔کل اس کی باتوں پر اس سے بھی زیادہ کریں گی۔اسی طرح دنیا نہیں جانتی کہ جو معمولی سا انسان نظر آتا ہے یہ روحانی مکتب کا کتنا بڑا استاد ہو گا اور اس کی باتیں کیسی حیرت انگیز ہوں گی مگر کھلائی عورتیں تو بچے کے سامنے اقرار کر لیتی ہیں کہ تم پڑھ گئے ہو ہم جاہل ہیں ہم ان باتوں کو کیا جانیں جو تم بیان کرتے ہو۔لیکن افسوس بوڑھی دنیا نبی کے متعلق یہ کہتی ہے کہ چونکہ تمہاری باتیں میری عقل اور سمجھ سے بالا تر ہیں اس لئے جھوٹ اور غلط ہیں نہ کہ اپنی جہالت کا اقرار کرتی ہے حالانکہ جس طرح جب بچہ پڑھ جاتا ہے تو اس کی باتیں سن کر عورتیں اپنی لاعلمی اور جہالت کا اقرار کر لیتی ہیں اسی طرح دنیا کو نبی کے مقابلہ میں اپنی جہالت کا اقرار کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس ایسا نہیں ہوتا۔نبی جب پیدا ہوتا ہے تو اس وقت چونکہ کونپل کی طرح ہوتا ہے اس لئے ایک عرصہ تک لوگ اسے حقیر سمجھتے ہیں کیونکہ ایک طرف وہ اپنی طاقت، قوت، سامان اور جتھے کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کی کمزوری، بے سرو سامانی اور تنہائی کو دیکھتے ہیں اس لئے کہتے ہیں یہ حقیری چیز ہے اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ہاں جس طرح کیڑے مکوڑے چھوٹے سے درخت کے ساتھ بھی چمٹ جاتے ہیں لیکن بھینسا حقارت کے ساتھ اس کو دیکھ کر گزرتا ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے لوگ بھی نبی کے پیچھے پڑ جاتے اور اسے ذلیل کہتے ہیں لیکن جس طرح چھوٹی سی کو نیل جب تتا بن جاتی ہے تو وہی بھینسا اس پر سر مار کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔اسی طرح نبی جب ترقی کرتا ہے تو وہی لوگ جو اسے حقارت سے دیکھتے اور نا قابل توجہ سمجھتے تھے انہی کو رسی باندھ کر اس کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔وہ تو اس وقت بھی بھینے کے بھینے ہی رہتے ہیں۔مگر وہ نبی جسے حقیر سمجھتے تھے اب اس کے خلاف خواہ کتنا ہی زور ئیں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں اس کے دیکھنے کے لئے آنکھیں، سننے کے لئے کان اور سمجھنے کے لئے دل کی ضرورت ہے اور نبی کی ساری زندگی کو آنکھوں کے سامنے لانے کی حاجت۔