خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 476

خطبات محمود جلد سوم والده یا دیگر رشته دار پسند کرتے ہیں اگر اسے اس میں کوئی غلطی نظر آئے یالڑ کے میں کسی قسم کا عیب دیکھے تو انکار کردے اور ان کے مشورہ کو رد کر دے۔شریعت نے مرد کو اس لئے ولی ٹھہرایا ہے کہ وہ عورت کی نسبت مرد کے حالات اور جذبات کو زیادہ عمدگی سے دیکھ سکتا ہے۔وہ دیکھ سکتا ہے کہ آیا یہ مرد دھوکا بازی تو نہیں کرے گا یا اس میں کسی قسم کا عیب تو نہیں۔اس نم کے حالات معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مرد ہی ولی ہو مرد کی نسبت عورت نا واقف ہوتی ہے۔۔یہ فارم جو اس وقت میرے پاس ہے اس میں گو یہ اصطلاحی غلطی ہے مگر لڑکی کی ماں کو مرد کے حالات کا پہلے سے ہی علم ہے کیونکہ ان کی پہلے سے ہی رشتہ داری ہے لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔قاعدہ میں عمومیت دیکھی جاتی ہے۔عورتوں میں سے سو میں سے پچانوے ایسی ہوتی ہیں جو مرد کے حالات سے واقف نہیں ہو سکتیں باقی پانچ فیصدی عورتیں رہ جاتی ہیں اور یہ تعداد بہت کم ہے قاعدہ کی بناء ہمیشہ عمومیت پر ہوتی ہے۔مرد کو شریعت نے ولی اس لئے بنایا ہے کہ وہ دیکھے لڑکے میں کوئی نقص یا عیب تو نہیں عورت ان حالات کو کیا جان سکتی ہے۔الا ماشاء اللہ بعض عورتیں جانتی ہوں گی مگر مسئلہ یہی ہے کہ ولی مرد ہو اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کی ولی حکومت ہوتی ہے خواہ دنیاوی حکومت ہو یا روحانی۔اس نکاح میں جس قسم کے حالات کے ماتحت عورت ولی بنی ہے اس قسم کے حالات ہزاروں میں سے ایک کے ہوتے ہیں۔مرد نکاح کرنے والے کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور بعض دفعہ آدمی کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی معلوم کر لیا جاتا ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔مرد اس کے اخلاق کا جائزہ لیتا ہے، اس کے بولنے کے طریق کو دیکھتا ہے، اس کے بلین دین پر نظر رکھتا ہے، اس کی مجلس دیکھتا ہے کہ یہ کس قسم کے لوگوں کے پاس بیٹھتا ہے، اس کے سودا سلف خریدنے کی طرف دیکھتا ہے کہ کہیں دھوکا بازی تو نہیں کرتا غر منکہ وہ اس کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور بولنے کو دیکھتا ہے اور معلوم کر لیتا ہے کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے مگر عورت کہاں یہ حالات معلوم کر سکتی ہے۔شریعت نے اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے مرد کو حق دیا ہے۔ہاں استثنائی صورت میں یہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کے اخلاق وغیرہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ ہو مثلا رسول کریم اللہ کے نکاح کے وقت آنحضرت کے اخلاق دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہاں تو نبوت کا سوال تھا اس قسم کے واقعہ سے بھی شریعت کا مسئلہ نہیں ٹوٹتا بلکہ قائم رہتا ہے کیونکہ نبی تو ایک ہی ہوتا ہے اور وہ