خطبات محمود (جلد 3) — Page 475
خطبات محمود ۴۷۵ نکاح کے بارہ میں ایک اصولی ہدایت فرموده ۲۰- جون ۱۹۳۸ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : نکاحوں کے بارے میں ہمارے ملک میں ایک غلطی ہو رہی ہے کہ جہاں مرد ولی نہیں ہوتے وہاں عورتوں کو ولی ٹھہرا دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہی فارم جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اس میں بھی اسی قسم کی غلطی کی گئی ہے یعنی لڑکی کی والدہ ولی ہے گو یہ صرف ایک اصطلاحی غلطی ہے کیونکہ لڑکی کی والدہ نے مجھ سے دریافت کر لیا ہے اور میرے مشورہ سے اس نے یہ کام کیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ میرے کہنے پر اس نے یہ کیا ہے صرف اصطلاح کے طور پر والدہ ولی بنی ہے مگر بہر حال ہماری شریعت میں ولی مرد کو ہی ٹھرایا گیا ہے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالبا دس گیارہ سال تھی ولی بنایا۔ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔اس عورت کا چونکہ اور کوئی مرد ولی نہیں تھا اس لئے رسول کریم ا نے اس لڑکے سے دریافت کرنا ضروری سمجھا۔شریعت اسلامیہ کا قاعدہ ہے کہ جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو اس کی ولایت حکومت کے ذمہ ہوتی ہے، حکومت خواہ سیاسی ہو، خواہ دینی اس کا فرض ہے کہ وہ اس لڑکی کا جس کا کوئی مرد ولی نہیں ولی بنے۔ہاں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔دیگر رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرے مگر آخری فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے اور اس کا حق ہے کہ جہاں اس کی