خطبات محمود (جلد 3) — Page 447
خطبات محمود جلد سوم بوجھوں کا فرق ہوتا ہے، کہیں خشک چیزوں کے بوجھوں کا فرق ہوتا ہے، کہیں ایک چیز کا مادہ کم طاقت رکھتا ہے اور دوسری کا مادہ زیادہ طاقت رکھتا ہے۔پھر بعض خشک چیزیں آپس میں ملادی جاتی ہیں تو ان کا وجود ایک دوسرے کے اندر مدغم ہو جاتا ہے اور بعض چیزیں آپس میں نہیں ملتیں اور ڈاکٹر ان کو محلول کرنے کے لئے ان میں ایسی چیزیں ملا دیتے ہیں جن سے وہ محلول ہو جاتی ہیں۔جب مادی اشیاء کا یہ حال ہے تو انسانوں کو تو ان سب چیزیوں سے زیادہ آپس میں ملنا چاہئے کیونکہ انسان کو مدنی الطبع کہا جاتا ہے یعنی سب سے زیادہ آپس میں ملنے والے انسان ہی ہوتے ہیں مگر بظاہر انسان آپس میں نہیں مل سکتے۔مگر دو انسانوں کا قیمہ بنا کر ملا دو تو بظاہر تو وہ مل جائیں گے مگر دونوں مر جائیں گے۔پانی کو دوسری چیز کے ساتھ نہ ملنے میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا، کھانڈ اور دودھ کو آپس میں نہ ملنے سے کوئی خطرہ نہیں ہو تا مگر انسان کو آپس میں نہ ملنے سے خطرہ ہے اور وہ یہ کہ اگر انسان آپس میں نہ ملیں تو کسی کو ایک دوسرے کی پرواہ نہ ہوگی۔خوں ریزیاں اور لڑائیاں شروع ہو جائیں گی قومیں دوسری قوموں سے جنگ شروع کر دیں گی اور تفرقے پڑ جائیں گے۔تو پھر وہ کون سی چیز ہے جو انسانوں کو آپس میں ملانے والی ہے بظاہر تو انسان انسان سے نہیں مل سکتا حالا نکہ سب سے زیادہ انسان کو آپس میں ملنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے مدنی الطبع کہا جاتا ہے۔جو دو مادی چیزیں آپس میں نہیں مل سکتیں اللہ تعالٰی نے ان کو ملانے کے لئے ایک اور چیز بنادی ہے۔پھر انسان جو بظاہر نہیں مل سکتے اور قومیں جو آپس میں بظاہر نہیں مل سکتیں ان کو ملانے کے لئے اللہ تعالٰی نے کون سی چیز بنائی ہے۔شکر اور دودھ ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں پس ان کا آپس میں ملنا عارضی ہوتا ہے۔لیکن انسان چونکہ قائم رہنے والا وجود ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک دوسرے سے تعلقات کے لئے ایک قائم رہنے والا ذریعہ بنایا ہے اور وہ مرد و عورت کی آپس میں شادی ہے۔اس کے ذریعہ انسان انسان سے مل جاتا ہے، ایک قوم دوسری قوم سے مل جاتی ہے، ایک ملک دوسرے ملک سے مل جاتا ہے۔پھر اللہ تعالی اس تعلق کے ذریعہ ایک نسل چلاتا ہے۔ایک خاندان کے وہ پوتے اور پوتیاں ہوتی ہیں اور ایک خاندان کے وہ نواسے اور نواسیاں ہوتی ہیں اور دونوں اس میں اپنی اپنی شکل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ددھیال اور ننھیال میں تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں ان میں محبت پیدا ہو جاتی ہے اور اشتراک پیدا ہو جاتا ہے۔پس گو بظا ہر انسان انسان سے نہیں مل سکتا مگر اللہ تعالٰی نے شادی کے ذریعہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کیا قوموں اور ملکوں