خطبات محمود (جلد 3) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ جلد سوم کو آپس میں ملا دیا ہے۔اسی کے ذریعہ انسان ترقیات کے بلند مقام پر پہنچتا ہے۔دو مختلف اقوام کو اللہ تعالی ایک وجود میں اکٹھا کر دیتا ہے۔ایک خاندان جو بالکل علیحدہ ہوتا ہے دوسرے خاندان سے مل جاتا ہے اور اس تعلق کو اللہ تعالٰی اس قدر مضبوط کر دیتا ہے کہ بچہ کے نانا اور نانی نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتے ہیں تو دوسرے خاندان کے دادا اور دادی پو تاکہہ کر اس پر جان دیتے ہیں اور دونوں خاندانوں کو اس میں اپنی اپنی شکل نظر آرہی ہوتی ہے۔غرض ایک ہی وجود کے ذریعہ دو الگ الگ خاندان مل جاتے ہیں، قومیں مل جاتی ہیں، ملک مل جاتے ہیں اور زبانیں مل جاتی ہیں۔اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔اب اگر ایک مسلمان مرد ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرے تو اس پر دوسرے مسلمان کفر کا فتوی لگا دیں۔مگر اسلام میں ایسے نکاح کی اجازت ہے اور اس سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان ہو تا کہہ کر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو تو دوسری طرف ایک ہندو نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو۔اس ذریعہ کو اختیار کرنے سے مذاہب کے اختلاف دور ہو جائیں گے ، رنگوں اور زبانوں کے فرق دور ہو جائیں گے اور وہ سب روکیں جو تعلقات کی وسعت میں حائل ہیں دور ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ جیسے برسات کے موسم میں مینہ برساتا ہے تو پانی ساری دنیا میں پھیلا دیتا ہے کسی خاص جگہ پانی نہیں برساتا بلکہ وہ قطرات نہروں میں بھی پڑتے ہیں، دریاؤں میں بھی پڑتے ہیں، سمندروں میں بھی پڑتے ہیں، بنجر زمینوں پر بھی پڑتے ہیں، سرسبز و شاداب علاقوں پر بھی پڑتے ہیں، گھنے باغوں پر بھی پڑتے ہیں، گندی نالیوں پر بھی پڑتے ہیں، مندروں اور مسجدوں پر بھی پڑتے ہیں اور میدانوں اور آباد مقامات پر بھی پڑتے ہیں۔غرض اللہ تعالی بارش کو وسیع سے وسیع تر پھیلاتا ہے۔پھر انسان اپنی ضروریات کے ماتحت اس کو اکٹھا کر لیتا ہے۔جیسے عورتیں بال گوندھتی اور چوٹی کرتی ہیں تو پہلے بال پھیلے ہوئے ہوتے ہیں مگر ان کو گوندھ کر اکٹھا کر دیا جاتا ہے اسی طرح انسان کی نسل اپنے دادا پڑدادا کی نسل کی نسبت محدود ہوتی ہے۔اور دادے پڑدادے کی نسل وسیع ہوتی ہے اس کو محدود کرنے کے لئے شادیاں کی جاتی ہیں۔غرض ایک طرف نسل پھیل جاتی ہے اور دوسری طرف شادی کے ذریعے اسے محدود کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ انسانوں کو پھیلاتا بھی ہے اور شادیوں کے ذریعہ محدود کر کے شیر و شکر بھی بنا دیتا