خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 410

۱۰۲ -19 مستقبل سنوارنے کی کوشش کرو (فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۳۷ء) اپریل ۱۹۳۷ء کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسجد مبارک میں محمد عبد السلام صاحب بی اے پسر مولوی محمد عبد السبحان صاحب انسپکٹر (بنگال) کا نکاح مسلمہ خاتون بنت خان بهادر چوہدری ابوالہاشم خان صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھانے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی اعمال کے لیے حصے دو ہی ہوتے ہیں ایک اس کا ماضی اور ایک مستقبل - حال ایک ایسی خیالی چیز کا نام ہے جس کی تعیین کرنا انسانی طاقت کے لئے بالکل ناممکن ہے۔مثلاً جب ایک شخص کہتا ہے کہ میں یہ کام کر رہا ہوں تو جس وقت اس کا یہ فقرہ ختم ہوتا ہے اور نحویوں کے نزدیک اس کے کچھ معنے بنتے ہیں اس وقت اس فقرے کا مفہوم بے معنی ہو چکا ہوتا ہے۔کیونکہ گو یہ فقرہ کہ میں کام کر رہا ہوں حال پر دلالت کرتا ہے لیکن وہ ” ہوں" کے نون کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ماضی ہو چکا ہوتا ہے۔پس جب اس شخص کا کلام با معنی بنتا ہے اس کا مفہوم بے معنے ہو جاتا ہے گویا حال بالکل ایک غیر متعین شئے ہے جو چیز انسان کے ساتھ تعلق رکھتی ہے وہ اس کا ماضی اور مستقبل ہے مگر ماضی وہ ہے جو اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کی درستی اس کے اختیار میں نہیں۔حال کی کوئی تعیین نہیں کہ اس پر قبضہ کیا جا سکے۔گویا ماضی وہ پرندہ ہے جو اڑ چکا ہے اسے پکڑا نہیں جا سکتا اور حال ایک ایسا ہوائی قلعہ ہے جس پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا۔