خطبات محمود (جلد 3) — Page 407
خطبات محمود جلد سوم جانے والے تھے۔شیخ یعقوب علی صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ صلح کی ایک صورت پیدا ہو گئی ہے۔خواجہ کمال الدین سے میری باتیں ہوئی تھیں اگر آپ کچھ نرم ہو جائیں تو صلح ہو جائے گی۔میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ شیخ صاحب اگر ہماری مخالفت دنیوی جائداد کی ہے تو لاؤ کاغذ میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں اور جس طرح خواجہ کمال الدین صاحب چاہیں کریں میری طرف سے کوئی شرط وغیرہ نہیں ہوگی۔اور اگر یہ دنیوی جائداد کے متعلق اختلاف نہیں بلکہ دین کا سوال ہے تو ایک خواجہ کمال الدین کیا اگر دس ہزار خواجہ کمال الدین ہوں تب بھی میں ان کی خاطر سچائی کو نہیں چھوڑ سکتا۔مجھے تو اس قسم کا خیال رکھنے والوں کی انسانیت پر بھی شبہ ہو گیا ہے۔ممکن ہے دہریت کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہو ورنہ مومن کیا معمولی سمجھ رکھنے والا انسان بھی خدا تعالیٰ کے کلام کے متعلق ایسا خیال نہیں کر سکتا۔بے شک انسان پھلتا ہے مگر پھسلنا بھی کسی راہ کا ہوتا ہے۔جذبات میں آکر انسان پھسل جاتا ہے، لالچ میں آکر پھسل جاتا ہے اور کئی غلطیاں اس سے سرزد ہو جاتی ہیں مگر یہ نہیں ہو تا کہ خدا تعالی کی باتوں میں سودا کرتا پھرے۔اگر ان کا مقصد اس سے یہ ہو کہ وہ ہم کو اس طرح آزمانا چاہتے ہیں اور ہمارے ایمانوں کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا ان کو آزمانے کے لئے صرف کفر کے مسئلہ میں تبدیلی ہی ایک ایسی بات مل گئی ہے جس کے ذریعہ وہ ہمیں آزمانا چاہتے ہیں۔اس سے قبل آزمائش کی باتیں کیا وہ کم دیکھ چکے ہیں۔اللہ تعالٰی کے لئے غیرت دکھانا اور اس کے دین کے لئے غیرت ایک ادنیٰ قربانی ہے مومن تعداد بڑھانے کے لئے اپنے عقائد میں تبدیلی ہرگز نہیں کر سکتا۔اگر ساری دنیا بگڑ رہی ہو تو وہ کبھی بھی یہ نہیں کرے گا کہ اپنے عقائد میں تبدیلی کرلے اور دنیا کو اپنے ساتھ ملالے بلکہ ایک ذرہ بھر بھی اس کو دنیا کے بگڑنے کی پرواہ نہ ہو گی۔ہو سکتا ہے کہ دنیا کی نگاہ میں اس کا یہ فعل اچھا نہ ہو اور اس کی وجہ سے وہ عزت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے مگر وہ اس کی ہرگز پرواہ نہیں کرے گا کیونکہ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور وہی عزت اس کے لئے حقیقی عزت ہے جو اسے خدا دیتا ہے۔اگر مولوی محمد علی صاحب میری بیعت کرلیں اور میں اس شرط کو مان لوں تو کیا وہ ایک منٹ کے لئے بھی میری زندگی کا ٹھیکہ لے سکتے ہیں۔اگر نہیں لے سکتے اور ان کے بیعت کرتے ہی میری جان نکل جائے تو اس مزعومہ عزت سے جو وہ ساتھ لائیں