خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 406

خطبات محمود ۴۰۶ جلد سوم عذاب سے ہم کو بچا سکتی ہے۔ہم اپنی باتوں میں تبدیلی کر سکتے ہیں مگر خدا کی باتوں میں تو خدا خود ہی تبدیلی کرے تو کرے۔ایک مولوی محمد علی صاحب چھوڑ لاکھ مولوی محمد علی صاحبان بھی آئیں اور ہمیں عقائد تبدیل کرنے کے متعلق کہیں تب بھی ہم عقائد میں تبدیلی نہیں کر سکتے کیونکہ ہم کو اس کا اختیار ہی کوئی نہیں۔ایک غلام بادشاہ کے حکم کو نہیں بدل سکتا تو ایک ذلیل مخلوق کی کیا طاقت ہے کہ وہ وحدہ لا شریک خدا کے کلام میں تبدیلی کر سکے۔میں نہیں سمجھتا ایک شریف انسان کے منہ سے ایسا فقرہ نکلے اور وہ شرم محسوس نہ کرے۔کیا کوئی شخص اس قسم کا سودا کر سکتا ہے جو یہ لوگ ہمارے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔جب کہ میں کہہ چکا ہوں اغلب ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے ایسا نہ کہا ہو بلکہ کسی درمیانی آدمی نے یہ خیانت کی ہو مگر بہر حال جس نے یہ فقرہ کہا ہے اس نے اپنی قیمت بہت ہی بڑی قرار دی ہے اور دین کو ایک کھیل سمجھا ہے اور ہم نے ایسے شخص کو اپنے اندر داخل کر کے لینا ہی کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں عقائد میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہو۔قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ایسے لوگ پہلے بھی ہوا کرتے تھے جو عقائد میں تبدیلی کر لیا کرتے تھے اور اسے معمولی بات سمجھا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ ان کے متعلق بیان فرماتا ہے۔افتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتْبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ - شے کہ کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام غیر مبائعین کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے مامور نہ سہی، مسیح موعود نہ سہی، بلکہ ایک مجدد ہی سہی، مجدد نہ سہی ایک ولی ہی سہی، ولی نہ سہی ایک مومن ہی سہی مگر کیا ایک مومن کی طرف سے جو بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کسی جائے کیا اس کے بارے میں سودے کئے جاسکتے ہیں۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کسی مومن کے الہامات اور اس کی خوابوں کے متعلق ایسے سودے کئے گئے ہیں؟ اور اگر نہیں کئے گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی کے متعلق ایسے سودوں کی دعوت کیوں دی جاتی ہے ؟ ان لوگوں کو ان کی یہ خود پسندی ہی خراب کرتی چلی آئی ہے اور یہ حقیقت سے نا آشنا ہوتے جارہے ہیں۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نور کو کہاں دیکھ سکتے ہیں جو اللہ تعالٰی کے کلام میں سودے کرتے پھرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 1911ء کا نصف یا اس سے کچھ پہلے یا بعد کا واقعہ ہے جب کہ خواجہ کمال الدین صاحب ابھی ولایت نہیں گئے تھے اور عنقریب