خطبات محمود (جلد 3) — Page 405
خطبات محمود ۴۰۵ جله موم ان کے لئے کیا کم ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو ۹۸ فیصدی سے دو فیصدی بلکہ اس سے بھی کم کر دیا اور ہم جو دو فیصدی تھے ۹۸ فیصدی ہو گئے۔پہلے جب ہم تھوڑے تھے تو یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ ۹۸ فیصدی کی تعداد میں ہیں اور میاں محمود کے ساتھ دو فیصدی۔گویا پہلے اپنی اکثریت کو اپنی کامیابی کا معیار قرار دیتے تھے مگر اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کم کر دیا اور ہمیں زیادہ تو کہنے لگ گئے کہ قرآن مجید میں آیا ہ وَاَكْثَرُهُمُ الفسقُونَ۔ہے کہ اکثریت فاسقوں کی ہوتی ہے۔جب وہ زیادہ تھے تو فاسق نہ تھے بلکہ ان کے نزدیک کامیابی تھی مگر اب جبکہ ہم ان کی نسبت بہت زیادہ ہو گئے تو سب صحابہ فاسق ہو گئے اس سے بڑھ کر ان کی عداوت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ان کے پاس کون سی طاقت تھی جو انہوں نے ہمارے خلاف خرچ نہ کی۔ہم کو مقدمات کی دھمکیاں دیں، ہمارا سامان اٹھا کر لے گئے، قرآن مجید کا ترجمہ جماعت کی ایک امانت تھی جو وہ اپنے ساتھ لے گئے، اس کے علاوہ کئی کتابیں اپنے ساتھ لے گئے جن کی قیمت کئی ہزار روپیہ بنتی ہے غرضکہ انہوں نے ہمیں ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور ہر قسم کے ہتھیار انہوں نے ہمارے خلاف چلائے، حکومت کے پاس ہماری شکایتیں کیں، رعایا کو ہمارے خلاف اشتعال دلایا اور ان کو یہ کہہ کر کہ یہ لوگ تمہیں کافر کہتے ہیں ہمارے خلاف اکسایا مگر اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر ان کو نیچا دکھایا۔دنیاوی طاقتیں انہوں نے ہمارے خلاف خرچ کیں اور طرح طرح کے دکھ دینے کی کوششیں کیں مگر دنیاوی طاقتیں اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس مکہ کے لوگ آئے اور عرض کیا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں ان کا بھی یہی مطلب تھا کہ رسول کریم و دین میں تبدیلی کریں اور ہمارے ساتھ مل جائیں مگر رسول کریم ﷺ نے ان کو اس وقت یہی جواب دیا کہ اگر تم سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر رکھ دو تب بھی میں اپنا عقیدہ تبدیل نہیں کر سکتا ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور خدا تعالٰی کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔جب محمد رسول اللہ ﷺ میں یہ طاقت نہ تھی کہ آپ خدا تعالیٰ کے کلام میں تبدیلی کر سکتے تو بھلا ہم جیسے کمزور وجودوں کو یہ اختیار کہاں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالی کے حکموں کو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے دوستوں کی خوشنودی کے حصول کے لئے بدل دیں اور اگر ہم نعوذ باللہ من ذالک خدا تعالیٰ کے کلام میں تبدیلی کرہی دیں تو دنیا کی وہ کون سی طاقت ہے جو خدا تعالٰی کے