خطبات محمود (جلد 3) — Page 371
خطبات محمود ٣٧١ جلد موم ہے۔اگر تمہیں استخارہ سے اسلام کی صداقت کا پتہ لگ جائے تو پھر ضرور اسلام قبول کرنا ہوگا اور اگر دل میں یہ خیال ہو کہ اسلام کو ماننا ہی نہیں تو پھر استخارہ ایک لغو کام ہے اور اللہ تعالی لغو کام پر توجہ نہیں کیا کرتا۔استخارہ کرنے والے کی اللہ تعالی راہنمائی کرتا ہے اور اسے ہدایت دیتا ہے۔بشرطیکہ وہ یہ۔عزم رکھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کہا تو فلاں کام کریں گے ورنہ نہیں۔پھر شریعت نے کہا ہے عفو سے کام لو۔مرد میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں اور عورت میں بھی۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عفو اور درگزر سے کام لینا چاہئے۔یاد رکھنا چاہئے در گزر اور لاپروائی ایک چیز نہیں دونوں میں فرق ہے۔عفو کرنے والا آدمی دل سے اس بات کو برا مناتا ہے مگر بے پرواہ آدمی دل سے برا نہیں مناتا اور اس طرح بے غیرتی پیدا ہو جاتی ہے۔غرض اسلام نے میاں بیوی کے لئے جو ہدایات مقرر کی ہیں ان پر عمل کرنے سے خانگی زندگی نهایت خوشگوار اور آرام دہ بن سکتی ہے۔لے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔ه ترمذى ابواب النكاح باب ما۔ينكح على ثلث خصال الفضل ۱۸ اگست ۱۹۳۵ء صفحه (۳)