خطبات محمود (جلد 3) — Page 372
خطبات محمود ۳۷۲ ۹۶ جلد سوم نیک سے نیک کام میں بھی احتیاط سے کام لو فرموده ۸ جنوری ۱۹۳۶ء) خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا۔اے شادی بیاہ تو انسانی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے اس لئے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن انسانی فطرت جس قسم کی واقع ہوئی ہے وہ ایسی ہے کہ اچھی۔اچھی چیز میں بھی بری بات نکال لیتی ہے حالانکہ اللہ تعالٰی نے انسان کو دو قوتیں اور طاقتیں دی ہیں کہ جو بری سے بری چیز کو اچھی چیز بنا سکتی ہیں۔دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو غلیظ سے غلیظ چیزوں میں سے بھی اچھی چیز نکال لیتے ہیں۔ہمارے ملک میں (۸۰) اسی فیصدی طبقہ زمینداروں کا ہے جو ان پڑھ ہے۔عام طور پر وہ علوم سے بے بہرہ ہوتے ہیں مگر وہی زمیندار ہیں جو پاخانہ اور بیلوں کے گوبر کو انسانی زندگی کے قائم رکھنے والی اشیاء کو عمدہ بنانے میں صرف کرتے ہیں۔دراصل جو شخص اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقتوں سے کام لیتا ہے تو وہ بری سے بری چیز کو بھی اچھی چیز بنالیتا ہے۔مگر وہ لوگ جو اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقتوں سے کام نہیں لیتے وہ اچھی سے اچھی چیز کو بھی بری بنا دیتے ہیں۔بعض لوگ دنیا میں ایسے بھی ہیں جو پاخانہ جیسی گندگی کو بھی انسانی ضروریات کے لئے مفید بنا دیتے ہیں اور بعض لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو نمازوں اور روزوں کو بھی شیطنت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور خدا تعالی ان کے متعلق قرآن مجید میں فَوَيْلٌ لِلْمُصلين له فرماتا ہے۔بعض ایسے نماز پڑھنے والوں کے لئے ہلاکت ہے اس قسم کے لوگ بجائے نفع کے نقصان اٹھاتے