خطبات محمود (جلد 3) — Page 331
خطبات محمود ۹۰ جلد سوم حضرت مسیح موعود کے بعض رفقاء کے حالات فرموده ۲۹ - جون ۱۹۳۴ء) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۹۔جون ۱۹۳۴ء کو ملک سعید احمد صاحب بی اے ابن ملک مولا بخش صاحب کا نکاح سیدہ محمودہ خاتون صاحبہ بنت سید غلام حسین صاحب سے ایک ہزار روپیہ خر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل ارشاد فرمایا :- جس طرح ہر درخت ایک خاص زمین میں ترقی پاتا ہے اسی طرح صداقتیں بھی اپنے ساتھ کچھ افراد کو وابستہ رکھتی ہیں اور وہ افراد ان صداقتوں سے ایسے وابستہ ہوتے ہیں کہ گو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خود ہی وہ صداقت ہیں مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس صداقت سے جدا ہیں۔کوئی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس وحی کے حامل تھے جو آپ پر نازل ہوئی مگر بو بکر، عمر، عثمان، علی و غیر هم خاص صحابہ کو قرآنی صداقت سے جدا نہیں کر سکتے اور قرآن مجید کو ان سے جدا نہیں کر سکتے۔خدا تعالی کی طرف سے فرشتہ جو اسلام لایا وہ رسول کریم کے لئے لایا لیکن رسول کریم ﷺ نے جن برتنوں میں اسے ڈالا وہ پہلے حامل تھے اس کے۔جس طرح رسول کریم نے اسلام جبرائیل سے لیا صحابہ نے رسول کریم اے سے لیا۔پھر ان کے بھی مدارج تھے جو درجہ حضرت ابو بکر کو حاصل تھا وہ دوسروں کو نہ تھا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کسی امر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کا اختلاف ہو گیا۔اختلاف نے مشاجرت کی صورت