خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 317

خطبات محمود چند سوم حالت میاں بیوی کی شادی کے وقت ہونی چاہئے۔بظاہر یہ خوشی کا دن ہو تا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن در حقیقت میاں بیوی اس وقت ایسا قدم اٹھا رہے ہوتے ہیں کہ جس کے متعلق انہیں پتہ نہیں ہو تا کہ انہیں کہاں لے جائے گا۔اس لئے شادی کے موقع پر تقویٰ ذکر الہی اور امداد و استعانت اللى خاص طور پر طلب کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جو نیک نتائج پیدا کر سکے۔لوگ بڑی خوشی کے ساتھ شادی کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد ایسی گندی نکلتی ہے کہ ساری عمر روتے رہتے ہیں۔کئی اچھے اور اعلیٰ خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔مجھے ہمیشہ خیال آیا کرتا ہے کہ ابو جہل کے باپ کی شادی جب ہوئی ہوگی تو کس قدر خوشی منائی ہو گی۔چونکہ یہ مالدار خاندان تھا اس لئے اس شادی کے موقع پر اونٹ پر اونٹ ذبح کیا گیا ہو گا بڑا اجتماع ہو گا، بڑی چہل پہل ہوگی مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ اس شادی کے نتیجہ میں ایسا سانپ پیدا ہونے والا ہے جس کا زہر سارے خاندان کی ہلاکت کا باعث ہوگا اور ایسا وجود رونما ہونے والا ہے جو اپنے ماں باپ اور دنیا کے درمیان لعنت کا پردہ حائل کر دے گا۔غرض نکاح کے متعلق اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہوتا ہے اس لئے اس موقع پر اس سے امداد حاصل کرنی چاہئے۔له ترمذی ابواب القدر، باب ماجاء ان الاعمال بالخواتيم له الماعون : ۵ وظه : ۹۸ ه العنكبوت : ۶ شه الحشر : ۱۹ الفضل ۴ - اپریل ۱۹۳۳ء صفحه ۱۰۵)