خطبات محمود (جلد 3) — Page 15
خطبات محمود ۱۵ جلد سوم بات ہے لیکن وہ مشکلات جو انسانی زندگی کے رستہ میں حائل ہیں ان پر غالب آنا اور انہیں ہٹا دینا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک کہ کسی دوسرے کی نصرت اور مدد شامل نہ ہو اس لئے کسی کو مددگار بنانا بھی ضروری ہے ورنہ انسان ہلاکت سے نہیں بچ سکتا۔چونکہ خدا تعالی ہی ایک ایسی ہستی ہے جو غیب کی باتوں کو جاننے والی ہے اور انسان کے متعلق ہر ایک بات کو جانتی ہے اس لئے اس کا حق اور اسی سے ممکن ہے کہ وہ انسان کو اس ہلاکت سے بچانے کی کوئی تدبیر بتائے۔اسلام میں جو نکاح کا مسئلہ رکھا گیا ہے یہ بھی ان تدابیر میں سے ایک تدبیر ہے جو ہلاکت اور تباہی سے بچاتی ہے اور انسان کو سچا دوست اور مخلص مددگار مہیا کر دیتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں بیوی کے متعلق آتا ہے کہ لِتَسْكُنُوا را لَيْهَا۔ہے یعنی انسان کو جو مصائب اور تکالیف آتی ہیں اور جن کی وجہ سے قریب ہوتا ہے کہ وہ ہمت ہار دے اس وقت بیوی اس کی مددگار اور آرام کا باعث ہوتی ہے اور اس کی ہمت بڑھانے والی ہوتی ہے۔اسی حکمت کے ماتحت خدا تعالیٰ نے نکاح کو رکھا ہے اور اس کے لئے ایسی خواہشیں اور جذبات اور طاقتیں انسان کے اندر رکھ دی گئی ہیں کہ یہ مجبور ہے کہ کوئی ایسا ساتھی پیدا ہو۔وہ تو الگ رہے جنہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالی کے لئے صرف کر دیں اور جن کا کھانا پینا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا، نکاح کرنا سب کچھ خدا کے لئے تھا دوسرے لوگ بھی اس بات کے لئے مجبور ہیں کہ نکاح کریں یعنی انہیں بہیمی جذبات مجبور کرتے ہیں گویا اس رنگ میں خدا تعالیٰ نے انسان کو نکاح کرنے کے لئے مجبور کر دیا۔ممکن تھا کہ اگر یہ جذبات اسی رنگ میں خدا نے پیدا نہ کئے ہوتے تو بہت سے لوگ کہتے کہ اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ہم دنیا کی دوڑ میں ایک اور کو ساتھ ملا کر اپنی رفتار کوشت کریں لیکن خدا نے مجبور کر دیا ہے اس لئے اب کوئی نادان ہی ہے جو ایسا کہے۔اسلام میں خدا تعالیٰ نے شادی کے متعلق ایسے قواعد بتا دیئے ہیں کہ ان پر کار بند ہونے سے انسان کو سچا دوست اور مخلص مدد گار مل جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں جو مرد کی سخت دشمن ہوتی ہیں اور انہیں تباہ کر دیتی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بہت سی عورتیں خاوندوں کی اور مرد عورتوں کے بچے مددگار ہوتے ہیں۔گو بعض غلطیوں اور بد عہدیوں کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ خاوند بیوی سے اور بیوی خاوند سے بدظن ہو جاتی ہے لیکن یہ بیرونی عوارض اور اسباب ہیں ورنہ میاں بیوی کا تعلق ایسا ہے کہ نوے فیصد مرد