خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 251

۲۵۱ ۶۸ خطبات محمود شادی کرنے میں لڑکے لڑکی کو آزادی حاصل ہے (فرموده ۱۶ جنوری ۱۹۲۹ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا: اے نکاح کا معاملہ انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور شاید جس قدر دنیوی معاملات ہیں ان سب سے زیادہ اس کا تعلق انسان سے ہے لیکن یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ معاملات جن کو انسانی زندگی سے کم تعلق ہوتا ہے ان کو تو انسان لوگوں کے سپرد کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور جس کا زیادہ تعلق ہے اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ایک کپڑا چھ مہینے نہیں سال، سال نہیں دو سال، دو سال نہیں تین سال، تین سال نہیں چار سال، چار سال نہیں پانچ سال چلتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہے۔مگر ماں باپ کپڑے کے متعلق تو لڑکے لڑکی کو اجازت دے دیں گے بلکہ پسند کریں گے کہ لڑکا لڑکی کپڑا خود پسند کرے۔حالانکہ اس کے انتخاب پر ان کی زندگی کا مدار نہیں ہوتا۔کپڑے کی غرض خواہ کچھ ہو لڑکے لڑکی کی پسند کے نہ ہونے کے باوجود بھی پوری ہو جائے گی۔کپڑے کی غرض اگر ننگ ڈھانکنا ہوگی تو وہ بھی پوری ہو جائے گی۔اگر سردی سے بچانا ہوگی تو وہ بھی پوری ہو جائے گی گو آنکھیں اسے دیکھ کر خوش نہ ہوں اور دل میں مسرت پیدا نہ ہو لیکن اس میں تو کہتے ہیں کہ لڑکی لڑکا خود انتخاب کرے مگر وہ بات جس میں ان کی پسندیدگی اور رضامندی کے بغیر غرض پوری نہیں ہو سکتی اس میں اجازت نہیں دیتے اور وہ بیاہ شادی کا معاملہ ہے۔