خطبات محمود (جلد 3) — Page 241
خطبات محمود ام ہے کہ ان لوگوں میں حکومت نہیں رہی۔اس لئے ایسی باتوں پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اور ممکن ہے بعض لوگ اس موقع پر بھی اعتراض کریں۔مگر یہ شادی جس کا میں اعلان کرنے لگا ہوں چوہدری صاحب کے ارادہ اور خواہش سے نہیں ہو رہی بلکہ اس کا اصل محرک میں خود ہوں۔ممکن ہے ان ایام میں ان کے ذہن میں دوسری شادی کی تجویز آئی ہو یا نہ آئی ہو مگر مجھے ان کی بیوی کی وفات کے دوسرے تیسرے دن ہی خیال آیا کہ چوہدری صاحب کا سب سے بڑا فرض اپنی مرحومہ بیوی کے متعلق بچوں کی پرورش ہے جن میں سے ایک کی عمر تو اتنے ہی دن کی ہے جتنے دن مرحومہ کو فوت ہوئے گزرے ہیں کیونکہ اس کی پیدائش کے بعد وہ فوت ہو گئیں۔ایک اور بچہ دو سال کا ہے باقی اس سے زیادہ عمر کے ہیں اس لئے میرا خیال تھا کہ چوہدری صاحب کو اپنے نفس کو مار کر جلد سے جلد شادی کر لینی چاہئے اور میں اسی دن سے اس فکر میں تھا کہ کوئی موزوں صورت ہو تو اس کے متعلق تحریک کی جائے تاکہ بچوں کی تربیت اور پرورش بھی ہو سکے اور گھر بھی آباد ہو۔اب میری تحریک پر چوہدری صاحب نے نکاح پر آمادگی ظاہر کی ہے۔مجھے یہ خطبہ اس لئے بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ عام طور پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اتنی جلدی کیوں شادی کی گئی اس طرح وہ خاوند کی اپنی مرحومہ بیوی سے محبت اور تعلقات کے متعلق حرف گیری کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نفس پرست ہوتے اور انہیں مرنے والی بیوی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مرد کو کچی قربانی اور حقیقی ایثار کر کے شادی کرنے پر آمادہ ہونا پڑتا ہے۔وہ دل میں چاہتا ہے کہ اپنے غم کی گھڑیوں کو لمبا کرے مگر وہ اپنے نفس کو دبا کر مرنے والی کی خاطر اور اس کی خدمت کے لئے کیونکہ بچوں کی پرورش اور تربیت اس کی خدمت ہوتی ہے مجبور ہوتا ہے کہ اس بارے میں انتظام کرے۔دنیا اس پر اعتراض کرتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ کچی قربانی کر رہا ہوتا ہے۔یہ نکاح مرزا محمود بیگ صاحب کی لڑکی صادقہ بیگم سے قرار پایا ہے۔مرزا صاحب پٹی کے ایک مشہور خاندان کے اور پرانے احمدی ہیں۔وہ خاموش طبیعت کے آدمی ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑا اخلاص رکھنے والے ہیں۔مدتوں یہاں رشتہ داروں سے قطع تعلق کر کے رہے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں یہ بھی ان کی قربانی ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کا خاندان بهت مشهور اور بڑا مغلوں کا خاندان ہے مگر انہوں نے سارے رشتے غیر مغلوں میں کئے