خطبات محمود (جلد 3) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ جلد سوم دعا کرتا ہوں کہ اگر میری دعائیں میری نفسانی کمزوری کی وجہ سے قبول نہ ہوئی ہوں تو خدا تعالی اب قبول فرمالے۔اور اس سے کوئی ایسا شاخسانہ نہ نکلے جو غم وہم کا موجب ہو۔میں شادی کے فرائض اور ذمہ داریوں کو جانتا ہوں۔میں نے بارہ لوگوں کو بتایا ہے کہ شادیوں کی کیا اغراض ہیں اور آج میں اپنے نفس کو مخاطب کر کے وہی کہتا ہوں جو آج تک دوسروں سے کہتا رہا کہ ان باتوں کو سوچ لے مگر پھر بھی دعا کرتا ہوں کہ وہ اغراض جو خدا تعالی اور رسول کریم نے شادی کی بتائی ہیں ان کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔میرا دل بہت سے اسباب کی وجہ سے حقیقی دنیوی خوشی سے نا آشنا ہو گیا ہے۔اب مجھے دنیا میں کوئی خوشی نظر نہیں آتی۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ خوش نہیں ہوں۔جب میرا رب مجھے خوش کرنا چاہتا ہے تو میں اس کے فضل اور اس کی بندہ نوازی سے خوش ہوتا ہوں۔لیکن اس وقت میری حالت حضرت مسیح کی اس رات کی حالت کے مطابق ہے جس کی صبح کو انہیں صلیب پر لٹکایا جانا تھا۔انہوں نے فرمایا تھا میرا دل تو تیار ہے مگر جسم تیار نہیں۔اسی طرح میں کہتا ہوں روحانی طور پر خوشی کے مواقع آتے ہیں مگر جسمانی دل منقبض ہے۔اگر میرے دل میں یہ تڑپ نہ ہوتی کہ کی ترقی کو دیکھوں۔اگر مجھے یہ امید نہ ہوتی کہ میں اپنی زندگی میں اپنے گناہوں کے معاف کرانے کے لئے سامان کر سکوں تو اس دنیا میں میرے لئے کوئی دلچسپی کا سامان نہیں مگر باوجود اس کے میں خدا تعالٰی کی نعمتوں کو رد نہیں کرتا بلکہ طلب کرتا ہوں۔اگر میں دنیا میں رہ کر دین کی کچھ خدمت کر سکوں، ترقی اسلام میں محمد معاون ہو سکوں، خدا تعالی کی رضا میں کوئی گھڑی گزار سکوں تو میرے لئے کوئی دکھ دکھ نہیں بلکہ یہ زندگی ہی جنت ہے اور اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔میں کبھی اپنی نادانی کی گھڑیوں میں کہا کرتا تھا۔میرے مولا!! کس غرض کے لئے تو نے مجھے دنیا میں رکھا ہوا ہے مگر میں سمجھتا ہوں وہ نادانی کی گھڑیاں ہوتی ہیں۔دنیا دار العمل ہے اگر کوئی گھڑی ایسی میسر آجائے جس میں خدا تعالی کی رضا حاصل ہو سکے تو یہی جنت ہے۔جنت کیا ہے کیا دودھ اور شہد کی نہریں جنت ہے۔کیا باغوں کی سرسبزی جنت ہے۔جنت خدا تعالیٰ کی رضا ہے۔اگر اس کی رضا اس دنیا میں حاصل ہو جائے تو یہی جنت ہے اور اگر اگلے جہان میں حاصل ہو تو وہی جنت ہے۔پس چونکہ یہ دنیا دار العمل ہے اور خدا تعالی کی رضا کے حصول کی بنیاد یہیں پڑتی ہے اس لئے میں خدا تعالی کی دنیوی نعمتوں کی بھی قدر کرتا ہوں اور میں اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر ندامت کا اظہار کرتا ہوں۔