خطبات محمود (جلد 3) — Page 208
خطبات محمود ۲۰۸ جلد سوم غرض اس نئے بوجھ کو جو میں اٹھانے لگا ہوں تو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور میں سمجھتا ہوں دوسرے فریق کے لئے بھی یہ کوئی خوشی نہیں۔ایک ایسا مرد جو صحت کے لحاظ سے کمزور ہو، جس کی مالی حالت کمزور ہو، جس کا دل دنیوی خوشی سے بے بہرہ ہو، جس کی پہلے دو بیویاں موجود ہوں اسے لڑکی دے کر کوئی بڑی امید نہیں کر سکتا۔لڑکیاں چاہتی ہیں کہ خوش و خرم زندگی بسر کریں۔ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کی لڑکیاں ایسے انسان کے پاس جائیں جو ہنس لکھ ہو جس کے قومی مضبوط ہوں، جس کی مالی حالت اچھی ہو، جس کی پہلی شادی نہ ہو ، لیکن ان میں سے کوئی بات بھی مجھ میں پائی نہیں جاتی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی بھی قربانی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی انہیں اس کے نیک نتائج دے۔اور اگر ان کی نیت اور اخلاص میں کسی قسم کی کمی ہو تو اس کے بداثرات سے بچائے۔اور جب یہ شادی محض جماعت کے بعض کاموں کو ترقی دینے کے لئے کی جارہی ہے تو خدا تعالٰی سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ اس شادی کو میرے لئے بھی مبارک کرے اور اس لڑکی کے خاندان کے لئے بھی۔پھر وہ اس کمزور اور متروک صنف کے لئے بھی جو عورتوں کی صنف ہے مبارک کرے جس کے حقوق سینکڑوں سال سے تلف کئے جارہے ہیں۔جو خدا تعالٰی کے رحم کے لئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر پکار رہی ہے کہ اے خدا! کیا تیرا رحم مردوں کے لئے مخصوص ہے یا عورتوں کے لئے بھی خدا تعالیٰ ان پر اپنا فضل اور رحم نازل کرے اور مردوں پر بھی۔دونوں کامل ہوں اور خدا تعالی موت سے پہلے مجھے یہ بات دکھا دے کہ اسلام دنیا میں ہر طرف غالب ہو رہا ہے۔بچے ایمان اور اخلاص سے جماعت بھری ہوئی ہے، عالم و جاہل، مرد و عورت سب خدا کے عشق کے نشہ میں چور ہیں۔خدا تعالی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں۔میں اگر اس مقصد اور مدعا میں حصہ لیتے ہوئے دنیا سے گزر جاؤں تو میں سمجھوں گا میرے جیسا خوش قسمت انسان اور کوئی نہیں۔میں اس نکاح کا اعلان خود کرتا ہوں۔عام طور پر یہ بات رسم و رواج کے خلاف ہے کہ جس کا نکاح ہو وہی اعلان کرے۔مگر میرے دل کے غم نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود کھڑا ہو کر اعلان کروں اور ان جذبات اور خیالات کا اظہار کروں جو میرے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔مگریہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔میں جن بزرگوں کی جوتیاں جھاڑنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا انہوں نے اپنے نکاح کا اعلان خود کیا ہے۔میں خدا تعالی کے ان جرنیلوں کی تقلید میں اور ان بزرگوں سے تیمنا اور تبرکاً نسبت کرتے ہوئے اس امید سے کہ خدا تعالیٰ اس نکاح کو بابرکت