خطبات محمود (جلد 3) — Page 196
خطبات محمود 194 جلد سوم کئے گئے ہیں۔اگر وہ جانور زکی بھی ہیں اور ان میں اگر عقل بھی پائی جاتی ہے تو ہی اس لئے کہ ان کی عقل اور ان کا زکی ہونا انسان کے کام آوے۔مگر ایک ماتحتی مجبوری کی ماتحتی ہے اصل مقصد اس سے ماتحتی نہیں ہوتا کیونکہ اصل مقصد کے حصول میں بغیر اس کے کامیابی نہیں ہو سکتی اس لئے وہ ماتحتی بطور علاج ہوتی ہے نہ بطور اصل مقصد کے جیسے تربیت اولاد بغیر اولاد کی ماتحتی کے بالکل نہیں ہو سکتی۔جب تک ماں باپ اولاد پر پورا تصرف نہ رکھیں اولاد کی تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔اب اولاد کی ماتحتی جانوروں کی ماتحتی کی طرح نہیں کیونکہ جانوروں کی ماتحتی تو انسان کے فائدہ اور اس کے سکھ اور آرام کے لئے ہے لیکن اولاد کی ماتحتی ماں باپ کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ اولاد کے فائدہ کے لئے ہے۔اسی طرح انتظام کی درستی، تمدن اور باہمی نیک معاشرت اور اشتراک کے قیام کے لئے جب تک پریذیڈنٹ یا کوئی امیر نہ ہو سول اور سوشل تعلقات صحیح اور درست نہیں ہو سکتے۔اب پریذیڈنٹ کی افسری کے یہ معنی نہیں کہ اس کے حقوق دو سروں سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔نہیں۔زیادہ سے زیادہ اس کو یہ درجہ دیا جاتا ہے کہ اس کی رائے کو انتظامی معاملات میں فوقیت دی جاتی ہے۔مگر اس کے شخصی حقوق دوسروں سے زیادہ نہیں ہو جاتے مثلاً ایک تجارتی کمپنی کا ایک پریذیڈنٹ ہو۔اس کی رائے کو انتظامی معاملات میں فوقیت دی جاتی ہے مگر اس کے شخصی حقوق دوسروں سے زیادہ نہیں ہو جاتے۔اس کی رائے کو تو بے شک وقعت دی جائے گی مگر وہ اپنی اس افسری کی وجہ سے یہ حق نہیں رکھتا کہ دوسروں کے حصہ پر بھی قبضہ کرلے کیونکہ اس کی افسری اور دوسروں کی ماتحتی باہم تعاون اور اشتراک کے قیام کے لئے ہے نہ اس لئے کہ دوسروں سے کام لے کر فائدہ اٹھائے۔یہی ماتحتی ہے جو بیوی کی خاوند کے لئے مقرر کی گئی ہے۔جہاں آدمی زیادہ ہوں وہاں تو کثرت رائے پر بھی فیصلہ جاتا ہے مگر میاں بیوی دو آدمیوں میں کثرت رائے کا سوال بھی اٹھ جاتا ہے کیونکہ نوے فیصدی ایسے مرد ہیں کہ جو ایک بیوی سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتے کیونکہ اگر غور کیا جائے تو مرد و عورت کی تعداد قریباً برابر ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ معقول تعداد آدمیوں کی ایسی ہے کہ جو نکاح کی طاقت ہی نہیں رکھتے مگر عورتیں باوجود کمزوری کے نکاح کر سکتی ہیں اور پھر پانچ فی صدی مردوں میں سے بھی جو ایک سے زیادہ رکھ سکتے ہیں چند ایسے ہوں گے جو دو ہی رکھ سکیں گے اور چند ہی ایسے ہوں گے جو چار بھی رکھ سکیں گے۔قانون