خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 197

194 جلد موم خطبات محمود قدرت میں خدا تعالٰی نے تعدد نکاح میں خود ہی حد بندی کر دی ہے۔ایک لیڈی نے انگلینڈ میں مجھ سے سوال کیا تھا کہ اس اجازت سے تو ضرورت کے بغیر ہی ہر کس و ناکس کثرت ازدواج کرنے لگ جائے گا۔میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ لوگ اس قدر عورتیں کہاں سے لائیں گے کہ ہر شخص ایک سے زیادہ نکاح کرنے لگے اگر ملک میں عورتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر شخص ایک سے زیادہ نکاح کر سکتا ہے تو پھر میرے نزدیک ہر شخص کا فرض ہے کہ ایسا کرے تا ملک کی طاقت ضائع نہ جائے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالٰی نے خود ہی قانون قدرت کے ذریعے اس کی حد بندی کر دی ہے جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا۔یہ طریق افسری اور ماتحتی کا جو میاں بیوی کے درمیان رکھا گیا ہے محض اس لئے کہ تا دونوں بغیر کسی قسم کی شکر رنجی کے ایک دو سرے سے تعاون کر سکیں۔مرد کی اس افسری کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی وجہ سے عورت سے مرد کے حقوق کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں اس لئے خدا تعالٰی نے فرمایا ہے۔وَاتَّقُوا اللہ سے پہلے تو اصل منبع کی طرف توجہ دلائی کہ انسان کی تم اولاد ہو۔کیا مرد اور کیا عورت۔یہ نہیں فرمایا کہ مرد کو ہم نے افسری کے لئے پیدا کیا ہے اور عورت کو ماتحتی کے لئے۔ایسا قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا۔اگر کچھ آیا ہے تو دونوں کے لئے آیا ہے۔خدا تعالٰی فرماتا ہے۔لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةٌ سے کہ تم تسکین اور آرام حاصل کرو اس طرح کہ تم بیوی سے محبت کرو اور بیوی تم سے محبت کرے۔تم بیوی پر مہربانی کرو اور بیوی تم پر مہربانی کرے بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالٰی نے عورتوں کو مردوں کے تقومی کے لئے بطور لباس بنایا ہے۔حالانکہ صرف عورتیں مردوں کے لئے بطور لباس نہیں بنائی گئیں بلکہ مرد بھی عورتوں کے لئے بطور لباس بنائے گئے ہیں۔من لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنتُم لباس له سه محض عورت مرد کے لئے لباس نہیں بلکہ مرد بھی عورت کے لئے لیاس ہے اور ذمہ داریاں دونوں کی برابر ہیں۔ہاں درجوں میں تفاوت ہے جیسے اشتراک اور تعاون قائم رکھنے کے لئے پریذیڈنٹ اور امیر کو درجہ دیا جاتا ہے۔بڑے سے بڑا اگر اس کو کچھ فائدہ ہے تو یہی کہ اس کی رائے زیادہ سنی جائے گی۔حقوق میں وہ کوئی زیادہ نفع حاصل نہیں کر سکتا۔اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا - شه خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ تم اس مسئلہ کو نہ سمجھو گے اور تقویٰ سے کام لے کر عورتوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرو گے تو یاد رکھو تم پر بھی ایک اور ہستی نگران ہے۔آج اہل یورپ کہتے تو ہیں کہ ہم عورتوں کے حقوق ان کو دیتے ہیں حالانکہ انہوں نے کہ