خطبات محمود (جلد 3) — Page 181
خطبات محمود JAI ۵۴ جلد سوم پاک اغراض اور نیک مقاصد کو مد نظر رکھ کر نکاح کرنا چاہئے (فرموده ۹ جولائی ۱۹۲۳ء) ۹۔جولائی ۱۹۲۳ء ایک نکاح لہ کے خطبہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حسب ذیل تقریر فرمائی خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسانی کوشش تمام تر اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے۔دنیا میں ادنیٰ سے ادنی اور جاہل سے جاہل انسان کو بھی ہم جب دیکھتے ہیں تو وہ دن رات اس کوشش میں نظر آتا ہے۔کہ میں اپنے مقصد اور مدعا میں کامیاب ہو جاؤں۔بعض دفعہ اس کا مقصد نہایت ادنی اور رزیل ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کا مقصد ہوتا ہے اس لئے اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس میں کامیاب ہو جاؤں۔بہت لوگ ایسے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں جو ان کی بھلائی کا موجب نہیں ہوتے بلکہ دکھ کا باعث ہوتے ہیں، ان کی عزت کا باعث نہیں ہوتے بلکہ ان کی رسوائی کا موجب ہوتے ہیں، ان کی ترقی کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ ان کو تحت الشرعلی میں گراتے ہیں اور کوئی عقلمند اور دانا ان کو ان کے نقصان سمجھاتا اور باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ شخص جو کسی ادنیٰ مقصد کو اختیار کئے ہوتا ہے سمجھانے والے کی باتوں سے متاثر بھی ہوتا ہے اور کہتا ہے جو آپ نے کہا میرے سر آنکھوں پر مگر میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا یہ میرا مقصد اور مدعا ہے اس کو پورا کر لینے دیں پھر احتیاط کروں گا۔ایسا شخص اپنے نفس کو خوش کرنے یا دھوکا دینے کے لئے کئی قسم کے بہانے تلاش کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے اس کام کو اگر میں نے چھوڑ دیا تو لوگ کیا کہیں گے۔میں نے اس کے لئے اپنا وقت صرف کیا، روپیہ خرچ کیا میں اسے