خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 159

خطبات محمود ۱۵۹ چند موم پھل دیئے۔بادشاہ نے اس پر بھی انعام دیا اور کہا یہاں سے چلو یہ بڑھا تو ہم کو لوٹ لے گا۔بات یہ ہے کہ ہمیں جن چیزوں سے آرام پہنچ رہا ہے ان کے متعلق پہلوں نے تکلیفیں اٹھائی ہیں۔لاکھوں موجد ہیں جو بڑی محنت سے ایک ایجاد کرتے ہیں مگر دوسرے ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔موجد یورپ اور امریکہ کے ہی لوگ نہیں۔ہزاروں لوگ ہیں جو ہر وقت ایجادوں میں مصروف ہیں مگر لوگ ان کا نام بھی نہیں جانتے۔یہ ایک نکتہ ہے کہ پچھلوں کی قربانی سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کے آرام کا خیال رکھے ورنہ گزشتہ زمانے کے لوگوں سے نمک حرامی ہوگی اگر ہم اپنے ہی نفس کے سکھ کا خیال رکھیں اور آئندہ نسلوں کے فائدے کو نظر انداز کردیں۔اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کو حال کی بھی فکر چاہیئے۔اور وہ یہ کہ قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا - عمل کیا جائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قول سدید اختیار کرو۔یعنی تمہارے اقوال و اعمال میں راقت ہو۔ان میں ٹیڑھا پن نہ ہو۔تمہاری حالت قول و عمل میں کجی نہ ہو بلکہ صداقت سے پر ہو۔ایسا قول نہ ہو جس میں خرابیاں ہوں بلکہ ایسا ہو جو خرابیوں سے پاک ہو۔قول کے معنی عمل کے بھی ہیں۔مثلاً احادیث میں نبی کریم ﷺ کے غسل کے ذکر میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے قال بیدہ نے اپنے ہاتھ سے کہا اور ہاتھ سے کہنے کے یہ معنے ہیں کہ آپ نے ہاتھ سے پانی ڈالا۔تو عربی زبان کے مطابق قُولُوا قَولاً سَدِيدًا کے یہ معنے بھی ہوئے کہ اِعْمَلُوا عَمَلاً سَدِيدًا اور قول بعنی بات چونکہ ارثی چیز ہے اور لوگ عموماً اس کی پرواہ کم کرتے ہیں اور یونسی بعض باتیں منہ سے نکال دیتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔اس لئے فرمایا کہ جب اپنے قول میں مداد پیدا کرو گے تو عمل میں سداد خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ا در حقیقت قول کا لفظ دل کے لئے بھی آتا ہے کہ جو بات دل میں پیدا ہو اس کو قول کہتے ہیں اس لئے اس کے معنے ہوئے کہ پہلے دل کی اصلاح کرو۔صيد - پھر اصلاح بھی کئی قسم کی ہوتی ہے ایک اصلاح تو ایک محدود وقت کے لئے ہوتی ہے مگر فرماتا ہے کہ تم اس قسم کی اصلاح کرو کہ تمہارا اثر آگے تک پہنچے۔تم پر ہی یہ معاملہ ختم نہ ہو جائے تم دوسروں کے لئے روک نہ ہو بلکہ ایسے بنو کہ وہ آگے گزر جائیں۔چنانچہ فرمایا وَلتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - اگلوں کے لئے راستہ صاف کیا جس طرح انہوں نے