خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 138

خطبات محمود سکتا۔۱۳۸ جلد سوم پھر آپ کو اتنا علم دیا گیا کہ اس زمانہ میں شاعر کو سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔ایک لطیفہ ہے کہ زیادہ طاقتور جادو گر ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر پریاں اور اس سے بڑھ کر شاعر ہوتا ہے۔کیونکہ یہ جادو گروں اور پریوں کو بھی متاثر کر لیتا ہے۔پس اس زمانہ میں شاعر کا درجہ بڑا سمجھا جاتا تھا اور اس زمانہ میں سب سے بڑا شاعر لبید تھا اور جو متقدمین اور متأخرین میں بڑا مانا گیا۔سبعہ معلقات میں ساتواں معلقہ ان کا تھا۔وہ مسلمان ہو گئے تھے اور حضرت عمر کے زمانہ تک زندہ رہے۔حضرت عمر کو شعر سے محبت تھی۔آپ نے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ قصائد بھجواؤ ان کے ہاں دو شاعر تھے ایک لبید اور ایک اور گورنر نے دونوں کو بلوا کر کہا۔دوسرا شاعر تو قصیدہ لے آیا مگر جب لبید سے کہا گیا کہ ایک قصیدہ پیش کرو تو انہوں نے الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لا ريب فيه - الخ پڑھ دیا اسی طرح ایک دو دفعہ ہوا۔گورنر نے ناراضگی سے ان کے وظیفہ میں کمی کر دی اور حضرت عمر کو کہلا بھیجا کہ لبید نے ایسا کیا اور میں نے سزا کے طور پر ان کا وظیفہ کم کر دیا ہے۔حضرت عمر ناراض ہوئے اور کہا کہ وہ سچ کہتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے آجانے کے بعد کیا قصیدہ کہوں۔پس آپ پر جو کلام نازل ہوا وہ اس شان کا تھا کہ بڑے بڑے زبان دان اپنی زبان بھول گئے اور اپنے علم کو اس کے سامنے جہالت قرار دینے لگے۔پھر یا تو آپ کی جائداد زیادہ سے زیادہ ایک اونٹ تھی یا وہ زمانہ آیا کہ ہزاروں نے سامنے گردنیں رکھ دیں کہ ان پر بے شک آپ کے لئے چھری چل جائے۔آپ خاندان میں چھوٹے تھے مگر پھر وہ زمانہ آیا کہ خاندان نے آپ کو اپنا بڑا کیا اور بڑوں میں سے ایک نے کہا کہ بڑے تو آپ ہی ہیں ہاں پیدا پہلے میں ہوا تھا گویا نقشہ ہی الٹ گیا۔اس نظارے کو دیکھ کر ہر محسوس کرے گا کہ یہ خدا کا فضل تھا اور یہ فضل وہیں تک محدود نہیں۔حضرت صاحب کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا اور ہر شخص اس کا نظارہ دیکھ سکتا ہے۔نکاح کے معاملہ میں بھی لوگ گھبرا جاتے ہیں چونکہ نکاح کا موقع ہے اس لئے میں اسی مثال کو لیتا ہوں۔نکاح ہونے میں دیر ہو تو لوگ گھبراتے ہیں کہ نکاح کیسے ہو گا۔اور ہو جائے تو فکر لگ جاتی ہے اولاد کب ہوگی۔پھر اولاد ہو جائے تو اس کی پرورش کے لئے گھبراتے ہیں۔خدا تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔آيَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ نَفْسِ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِى