خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 82

خطبات محمود ۸۲ جلد سوم اپنے بندے کو بھیجتا ہے اور ساتھ ہی اعلان فرماتا ہے کہ بچایا جائے گا۔پھر وہ بندہ باوجود معاندین کی سخت مخالفتوں اور کوششوں کے ان کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے۔مولوی عمر دین صاحب ہماری جماعت کے ممبر اور نہایت جوشیلے مبلغ ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سلسلہ میں داخل ہونے سے پہلے میں مولویوں کا مداح تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے تعلق تھا۔ایک دن مولوی محمد حسین بٹالوی اور عبدالرحمن سیاح آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ مرزا صاحب کو چپ کرانے کی کیا تجویز ہو۔عبد الرحمن نے کہا۔میں بتاتا ہوں مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں مباحثہ نہیں کروں گا اب انہیں مباحثہ کا چیلنج دے دو۔اگر وہ تیار ہو گئے تو انہیں ان کا قول یاد دلا کر نادم کیا جائے کہ ہم پبلک کو صرف یہ دکھانا چاہتے تھے کہ آپ کو اپنے قول کا پاس نہیں اور اگر مباحثہ سے انکار کیا تو ہم اعلان کر دیں گے کہ دیکھو ہمارے مقابل پر آنے کا حوصلہ نہیں۔میں (عمر الدین) نے کہا مجھے کہو تو میں انہیں جا کر مار آتا ہوں جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔اس پر وہ کہنے لگے تمہیں کیا معلوم ہم یہ سب تدبیریں کر چکے ہیں کوئی سبب ہی نہیں بنتا۔یہ سنتے ہی مولوی عمر الدین کہتے ہیں کہ میرے دل پر حضور (مسیح موعود کی صداقت کا اثر ہو گیا۔کون دنیا کا بادشاہ ہے جو کسی کی نسبت تو کجا اپنی نسبت بھی تحدی کے ساتھ اعلان کر سکے کہ میں بچایا جاؤں گا۔مگر خدا اپنے بندوں کی زبان سے لوگوں کو چیلنج دیتا ہے کہ تم فرادی فرادی اور پھر اکٹھے میرے خلاف منصوبہ بازی کرلو۔خواہ میرے گھر کے لوگ بھی میرے خلاف ہو جائیں سب سے بچایا جاؤں گا۔وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِن عِنْدِم ولو لم يَعْصِمُكَ النَّاسُ - کے الناس میں سب ہی شامل ہیں۔اپنے بیگانے گھر کے لوگ گھر سے باہر کے لوگ۔غرض خدا کی نعمتوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔دیکھو انسان کی ایک یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی باتیں مانی جائیں اور مقبولیت حاصل کریں۔مگر یہ کوئی انسان دنیا میں اپنے زور قوت سے نہیں کر سکتا کیونکہ ظاہری جسم پر قبضہ ہو گا مگر دلوں پر قبضہ نہیں ہو سکتا۔پس خدا اپنے رسول کو اس انعام سے بھی ممتاز کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا"۔سے کئی باتیں ہوتی ہیں جو دنیا کے لئے مفید ہوتی ہیں مگر رسم ورواج کے خلاف ہوتی ہیں اس