خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 678

محمود 42A جلد سوم شاید ہی کوئی اور قوم ایسی ہو جو اپنی تاریخ کے یاد رکھنے میں اتنی ست ہو جتنی ہماری جماعت کی ہے۔عیسائیوں کو لے لو انہوں نے اپنی تاریخ کے یاد رکھنے میں اتنی سستی سے کام نہیں لیا اور مسلمانوں نے تو صحابہ کے حالات کو اس تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اس موضوع پر بعض کتابیں کئی کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہیں لیکن ہماری جماعت باوجود اس کے کہ ایک علمی زمانہ میں پیدا ہوئی ہے اپنی تاریخ کے یاد رکھنے میں سخت غفلت سے کام لے رہی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ خان محمد خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے اور آپ سلسلہ سے اتنی محبت رکھتے تھے کہ جب وہ یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو فوت ہوئے تو دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے اور فرمایا آج مجھے الہام ہوا ہے کہ اہل بیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے " سے حاضرین مجلس نے کہا کہ حضور کے اہل بیت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے ہیں۔پھر یہ الہام کس شخص کے متعلق ہے۔آپ نے فرمایا خان محمد خان صاحب کپور تھلوی کل فوت ہو گئے ہیں اور یہ الہام مجھے انہی کے متعلق ہوا ہے۔گویا خدا تعالٰی نے الہام میں انہیں اہل بیت میں سے قرار دیا ہے۔پھر ان کے متعلق یہ الہام بھی ہوا کہ اولاد کے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا " سے بہر حال ان کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعزیت کرنا اور یہ کہنا کہ اہل بیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ روحانی رنگ میں اہل بیت میں ہی شامل تھے۔پس قیصرہ خانم کا ہم سے یہ دوسرا رشتہ ہے کہ وہ اس شخص کے ایک بیٹے کی نواسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل بیت میں سے قرار دیا ہے۔لڑکی کے والد بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے بعد میں اس کے دادا بھی لاہور میں وفات پاگئے اس کے بھائیوں میں سے ایک بھائی جس کا نام انیس احمد ہے کراچی میں محکمہ کسٹم میں ملازم ہے، دوسرا بھائی جس کا نام شہزاد ہے فوج میں لفٹینٹ ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ لڑکی کا باپ فوت ہو گیا ہو تو اس کا کوئی بھائی جو موجود ہو چاہے وہ چھوٹی عمر کا ہی ہو اختیار رکھتا ہے کہ اپنی بہن کی شادی کر دے۔خود آپ نے ایک شادی کی تو اس وقت اس عورت کا والد فوت ہو چکا تھا صرف ایک بھائی تھا جس کی عمر ۸ - ۹ سال کی تھی آپ نے فرمایا وہی کافی ہے