خطبات محمود (جلد 3) — Page 636
خطبات محمود جلد سوم - سے حاصل ہوتی ہے۔گھاس کو براہ راست زندگی نہیں ملتی زمین سے نکلے ہوئے درخت کو دائمی زندگی نہیں ملتی اس انسان کے گوشت پوست کو اپنی ذات میں دائمی زندگی نہیں ملتی بلکہ دائی زندگی حاصل کرتی ہے ان سے بننے والی روح۔یہی حال روحانی زندگی کا ہے۔جس طرح مادی اشیاء روح کا حصہ ہیں زیادہ تر روح کی ترقی روحانی تعلیموں سے ہوتی ہے وہ تعلیمیں اپنی ذات میں زندگی حاصل نہیں کرتیں اور نہ اپنی ذات میں جنت میں جاتی ہیں مگر ان پر عمل کر کے جو روح ترقی کرتی ہے وہ دائمی زندگی پاتی ہے اور پھر جنت میں جاتی ہے۔جس طرح مادی گھاس، ترکاریاں، غلے اور درخت نئی شکل بدل کر جنت میں پائے جاتے ہیں اسی طرح انسان اخلاص اور تقویٰ کی راہوں پر چل کر ایک نئی شکل اختیار کرتا ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ مادہ اس دنیا میں نمایاں اور روح مخفی ہوتی ہے اگلے جہان میں روح ظاہر اور مادہ مخفی ہو جاتا ہے۔جیسے کوٹ پر انا ہو جاتا ہے تو غرباء اسے الٹا کر پھر سلوا کر پہنتے ہیں۔کپڑا وہی ہوتا ہے صرف نیچے کا اوپر ہو جاتا ہے اور اوپر کا نیچے ہو جاتا ہے۔جس طرح زمیندار ہل چلا کر اس مٹی کو جو گذشته سال فصل دے چکی ہوتی ہے نیچے کر دیتا ہے اسی طرح جب یہ مادہ کام کر چکتا ہے فرشتے ہل چلا کر اس کو الٹا دیتے ہیں۔مادہ غائب ہو جاتا ہے اور پھر نئی زندگی پاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ ہمیش سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔پیدائش ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک انسان پیدا ہو جاتا ہے اس کی مثال کبھی گھاس کی طرح ہوتی ہے اور کبھی ایک تناور درخت کی۔اسی طرح موتیں آتی ہیں موتوں کا سلسلہ ہمیشہ سے ہے لوگ مرتے ہیں اور پیدا ہوتے ہیں۔احادیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر دن اور رات کے وقت فرشتے آتے ہیں اور آواز دیتے ہیں۔لِدُوا اللمَوتِ وَابْنُو اللخَرَابِ له بچے جنو تا ایک دن جا کر مریں - مکان بناؤ تا ایک دن گرے۔تو مکان گرتے اور بچے مرتے ہیں۔یہ سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ہمیں اس کو دیکھتے ہوئے ایک سبق حاصل کرنا چاہیے جو ان آیات میں ذکر ہے آيَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ سه ای مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور چاہئے کہ ہر جان اس بات پر غور کرے کہ کل کے لئے اس نے کیا چھوڑا ہے مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئندہ زمانہ کے لئے کیا چھوڑا ہے یعنی اولاد وغیرہ۔اس غر کو انسان دیکھتا ہے اور بسا اوقات اپنے مرنے سے پہلے معلوم کر لیتا