خطبات محمود (جلد 3) — Page 637
خطبات محمود ۶۳۷ ہے کہ کیا چھوڑا ہے۔انسان کو چاہئے کہ وہ دیکھے کہ وہ کیسی دنیا چھوڑ جائے گا۔اگر اس کی اولاد کی دیندار ہو گی، متقی ہو گی، ان میں صلاحیت ہوگی، قربانی اور ایثار کا مادہ ہو گا، اگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتی ہوگی تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی اگلی دنیا اچھی ہے اور اگر اس کی اولاد ایسی نہیں، وہ دیندار متقی نہیں، قربانی اور ایثار کا مادہ ان میں نہیں پایا جاتا، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی نہیں تو یہ اس کے لئے بھی اور اس کی اولاد کے لئے بھی بلکہ دنیا کے لئے بھی برا ہو گا۔ہم تھوہر کا درخت لگاتے ہیں یا نیم کا درخت لگاتے ہیں یا اس قسم کا کوئی اور درخت لگاتے ہیں اور ہم خیال کرتے ہیں کہ ہماری اولاد اور دنیا اس سے فائدہ اٹھائے گی اور پھل کھائے گی تو ہم سے زیادہ احمق کون ہے۔اگر ہم عمدہ پھل کی گٹھلیاں اور بیج لگاتے ہیں جو شیریں ہوتے ہیں انسان کی زبان کو لذت دیتے ہیں یا انسان کے دماغ کو طراوت بخشنے والے ہوتے ہیں تو یقینا ہم خوش ہوں گے اور چار پانچ سال گزرنے کے بعد ہم اور ہماری اولاد اس کا پھل کھائے گی۔غرض یہ آیت نہایت ہی اہم ہے اس کو نظر انداز کرنے سے تباہی آتی ہے جو اس کو مد نظر نہیں رکھتے وہ اولاد کو اس نظر سے نہیں دیکھتے۔ایک شخص گٹھلی کو اس لئے ہوتا ہے کہ ایک دن وہ درخت بنے اور پھل دے، لوگ اس سے فائدہ اٹھا ئیں اس نقطہ نگاہ سے اگر اولاد کی تربیت کی جائے تو دنیا کا مستقبل ایک حد تک خوش کن ہو سکتا اور اگر اس نقطہ نگاہ سے اولاد کی تربیت نہیں کی جاتی تو دنیا کا مستقبل خوش کن نہیں ہو سکتا۔بلی بھی اپنے بچے سے محبت کرتی ہے، کہتے بھی اپنے کتورے سے محبت کرتے ہیں۔مگر وہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی دنیا اچھی ہو گی۔بلی بھی اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے، سانپ بھی اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے، بچھو بھی اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے۔یہ تو ایک ابتدائی چیز ہے اس مومن کی بچوں سے محبت اور سانپ اور بچھو کی اپنے بچوں سے محبت میں کیا فرق ہے؟ یہی فرق کہ سانپ اولاد سے اس لئے محبت نہیں کرتا کہ وہ بڑا ہو کر کسی کو کاٹے گا اور وہ اس کی وجہ سے مرجائے گا بچھو اپنے بچوں سے اس لئے محبت نہیں کرتا کہ بڑے ہو کر یہ انسان کو کاٹیں گے اور اس کی زندگی دو بھر ہو جائے گی لیکن مئومن بچوں سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس کو آدمی بنائے تادین کی ترقی کے لئے کام کرے اور سلام کے غلبہ کے لئے کام کرے۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو میرا بچہ ہے ورنہ سانپ کا بچہ ہے اور کیا کوئی سانپ کے بچہ سے محبت کرتا ہے۔ایک دفعہ حضرت حسنؓ نے حضرت علی سے سوال کیا کہ ابا جان کیا آپ کو مجھ سے محبت