خطبات محمود (جلد 3) — Page 626
خطبات محمود ۶۲۶ جلد سوم میں بسا اوقات اس قسم کی باتوں پر جھگڑا ہو جایا کرتا تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کے کفن کی چادر کے متعلق ایک کہتا تھا کہ یہ میرا حق ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ میرا حق ہے۔آپ فرماتے تھے کہ ہمارے والد صاحب نے ان جھگڑوں کو دیکھ کر قادیان کے دو حصے کر کے ان میں بانٹ دیئے تاکہ ان میں لڑائی نہ ہو مگر ان میں سے ایک ملاں دو تین دن کے بعد روتا ہوا والد صاحب کے پاس آیا والد صاحب نے پوچھا کیا بات ہے۔وہ چیخ مار کر کہنے لگا مرزا صاحب آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا۔والد صاحب نے پوچھا تمہارے ساتھ کیا ہے انصافی ہوئی تو وہ اپنی ہچکی کو بند کرتے ہوئے کہنے لگا " تساں جہڑے آدمی میرے حصے وچ دتے نے اونہاں دا قد اتنا چھوٹا اے کہ اونہاں دے کفن دی چادر دی چنی بھی نہیں بن سکدی۔" یعنی آپ نے میرے حصہ میں جن لوگوں کو رکھا ہے ان کا قد تو اتنا چھوٹا ہے کہ ان کے کفن کی چادر سے ایک چھوٹا سا دوپٹہ بھی نہیں بن سکتا۔اب اندازہ لگاؤ جہاں ملاؤں کے اخلاق اتنے پست ہوں وہاں ترقی کی کیا امید ہو سکتی ہے۔مگر عیسائیوں کے پادری جہاں جاتے ہیں ان کے لئے حکومتیں ٹیکس مقرر کرتی ہیں اور اس ٹیکس میں سے ان کو معقول گزارے دیئے جاتے ہیں۔وہ دربدر کی روٹیوں اور کفن کی چادروں پر نہیں پلتے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص ان کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ ہر مجلس میں اور ہر سوسائٹی میں ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ جہاں جاتے ہیں ان کو عزت کی جگہ پر بٹھایا جاتا ہے۔تم چاہے عیسائیوں کو کتنا برا کہ لو مگر وہ پادری کا اس طرح احترام کرتے ہیں جیسے ہمارے ہاں نواب یا رئیس کا ہوتا ہے۔ہمارا ایک اچھے گھرانے کا رئیس اور ان کا پادری بالکل یکساں ہوتے ہیں۔جہاں کہیں دعوت ہوتی ہے پادری کو بھی بلایا جاتا ہے اور اس کو عزت کی جگہ پر بٹھایا جاتا ہے۔مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کہیں دعوت ہو تو باقی تمام لوگوں کے کھانا کھا چکنے کے بعد ملاں بھی بغل میں تھال دبائے آپہنچتا ہے اور گھر والے بچے کھچے ٹکڑے اس کو دے دیتے ہیں۔بچپن میں ہم نے ایک لطیفہ سنا تھا کہ کوئی لڑکا کھیر کی بھری ہوئی ایک تھالی اپنے ملاں کے پاس لے کر گیا اور کہا تماں جی یہ کھیر اماں نے آپ کے لئے بھیجی ہے۔ملاں صاحب کو پہلے تو اس بات کا یقین ہی نہ آیا اور تعجب سے پوچھا۔کھیر - لڑکے نے کہا۔ہاں کھیر ہے۔ملاں صاحب کو لڑکے کی والدہ کی یہ خلاف معمول سخاوت عجیب سی معلوم ہوئی اس لئے لڑکے سے پوچھنے لگے آج کیا بات ہوئی جو انہوں نے اتنی کرم فرمائی کی۔لڑکے نے کہا ملاں جی اصل بات یہ ہے کہ کھیر پکی ہوئی ٹھنڈی ہونے کے لئے رکھی تھی کہ ایک کتا آگیا اور اس