خطبات محمود (جلد 3) — Page 595
خطبات محمود ۵۹۵ جلد سوم ہے بہت بڑا ظلم ہے۔اگر یہ دھوکا ہے تو یہ میرے خدا نے مجھے دیا ہے یا میں نے خود اپنے نفس کو دیا ہے لڑکی کے خاندان کا معاملہ اس میں بالکل صاف اور اعتراض سے کلی طور پر بالا ہے۔بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ آپ کو کسی بڑی عمر کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنی چاہئے۔ان کو بھی یہ معلوم نہیں کہ بوجہ بیماری کے بشری بیگم کی اب تک شادی نہیں ہوئی ورنہ ان کی عمر اس کی وقت ۲۷ سال ہے اور یہ وہ عمر ہے جب عورت کی عقل پختہ ہو جاتی ہے۔باقی یہ تو قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا کہ بڑی عمر کی عورت کے ساتھ شادی کا مشورہ دینے والا کوئی عقلمند یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ بڑی عمر سے مراد پچاس سال کی عورت ہے۔بشری بیگم کی عمر اپنی مرحومہ پھوپھی سے صرف ساڑھے گیارہ سال کم ہے۔مریم بیگم مرحومہ کے ہاں سب بچے پیدا ہو چکنے پر دو سال گزرنے کے بعد جتنی ان کی عمر تھی اتنی عمر اس وقت بشری بیگم کی ہے۔پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر یہ سب خواب اور الہامات اسی رشتہ کے متعلق ہیں تو اللہ تعالی ان کو توفیق دے دے گا کہ وہ اپنے آپ کو غلام مرزا ثابت کر سکیں اور جیسا کہ میں نے ایک اور رویا میں دیکھا تھا کہ ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے کہ مہر آپا کو بلاؤ جس کے معنی ہیں محبت کرنے والی آیا۔تو ان کے اندر اللہ تعالیٰ یہ احساس پیدا کر دے گا کہ مرحومہ کے بچوں کے لئے محبت کرنے والی آپا بن کر نہ صرف ایک عام ثواب حاصل کر سکیں بلکہ ایک بزرگ مهربان کی خدمت کا بدلہ اتار سکیں اسی طرح جماعت کی مستورات اور مساکین کے لئے مہر آیا ثابت ہوں۔پس جن لوگوں نے اعتراض کئے ہیں اور غلط ضمی اور لاعلمی سے کئے ہیں اگر اس میں کوئی غلطی یا قصور ہے تو میری طرف سے ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اگر کوئی غلطی اس میں ہے تو اللہ تعالٰی نے اپنے ایک بندہ کے ابتلاء کے سامان کئے ہیں۔اس قدر کثرت سے رویا اور خواب اس بارہ میں آئے ہیں کہ بظاہر امید نہیں اس میں کوئی غلطی ہو لیکن اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔بعض اوقات اس کے کاموں میں بعض بڑے باریک راز ہوتے ہیں اس لئے ہم اپنے اس غنی خدا سے ہی ابتلاؤں سے پناہ مانگتے ہیں۔میرے لئے یہ زمانہ دوڑ کا زمانہ ہے اور میں امید نہیں کرتا کہ میرا رحیم و کریم خدا ایک طرف تو مجھے دوڑنے کا حکم دے اور دوسری طرف ایک پتھر میرے گلے میں لٹکا دے کہ میں روڑ نہ سکوں۔اس رحیم وکریم سے میں ایسی امید نہیں کر سکتا اور اس کے ہی فضل پر بھروسہ