خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 545

جلد سو خطبات کور ۵۴۵ شخص سے پوچھتے ہیں آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں اور جب وہ اپنی رائے ظاہر کر دیتے ہیں تو وہی رائے خود دے دیتے ہیں۔دو تین بار یہی طریق دیکھ چکے تھے جب انہیں پھر کسی نئے مسئلہ کے بارہ میں کہا گیا کہ سیٹھ صاحب آپ اس بارہ میں کیا فرماتے ہیں تو اسی کمرہ میں جو اس مسجد کے ساتھ چھوٹا سا ہے اسی طرز پر جس طرح وہ لوگ ہاتھ بڑھا کر کہا کرتے تھے میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے اس بارے میں جو میاں صاحب فرماتے ہیں وہی میری رائے ہے۔یہ پہلی دفعہ تھی جب انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور پھر کھل گئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سیٹھ صاحب کا وجود بھی ایک نشان کے طور پر دیا ہوا تھا۔ان کی دینی تعلیم کوئی ایسی نہ تھی مگر یہ راس میں ان کی وجہ سے جماعت قائم ہو گئی اور دوسرے لوگوں پر بھی ان کا نہایت اچھا اثر تھا۔مجھے یاد ہے کہ سالہا سال تک ایک سیٹھ لال جی دال جی تین سو روپیہ ماہوار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجتا رہا۔وہ یہی لکھتا تھا کہ میرے دوست سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب کی حالت چونکہ کمزور ہو گئی ہے اس لئے اب میں ثواب حاصل کرنے کے لئے یہ رقم بھیجتا ہوں۔ان کے بعد سلسلہ میں بڑے تاجروں میں سے کوئی نہ رہا تھا اور خیال آیا کرتا تھا کہ تاجروں میں سے کوئی احمدی ہو۔تاکہ اس طبقہ میں تبلیغ کی جاسکے۔پنجاب میں تو کوئی بڑا مبائع تاجر نہیں ہے، معمولی ہیں ان کی اور بات ہے سیٹھ عبداللہ صاحب کو خدا تعالی نے شروع خلافت میں ہی دے دیا اور انہوں نے اسی وقت سے نہایت سرگرمی کے ساتھ تبلیغ شروع کردی جس پر آج ۲۲ ۲۳ سال کا زمانہ گزر رہا ہے مگر ان کے جوش تبلیغ میں فرق نہیں آیا۔ان پر خدا تعالیٰ کا یہ بھی فضل ہو گیا کہ وہ پہلے بہت اونچا سنتے تھے کان پر ایک کچی سی لگا کر بیٹھتے تھے اور جوں جوں انسان کی عمر بڑھتی ہے یہ مرض بھی بڑھتا جاتا ہے۔اس وقت کہا کرتے تھے کہ دعا کریں کان درست ہو جائیں تاکہ تقریریں اچھی طرح سن سکوں اب خدا تعالٰی نے ان پر ایسا فضل کیا ہے کہ کان کے پیچھے ہاتھ باندھ کر دور بیٹھے ہوئے بھی سن لیتے ہیں۔پہلے تو ان کی یہ حالت تھی کہ میرے سامنے میز پر بیٹھ کر یا میز سے ٹیک لگا کر لاؤڈ سپیکر کا سا آلہ کان سے لگا کر سنا کرتے تھے۔میں نے ان کے اخلاص اور تبلیغی خدمات کا اس لئے بھی ذکر کیا ہے کہ ہمارے کام کرنے والے نوجوان ان سے سبق سیکھیں اور دیکھیں کہ کس طرح ایک شخص بڑی عمر میں جب آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے کام کر رہا ہے۔دکان کے کاروبار سے وہ پنشن لے چکے ہیں اس میں کام