خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 544

خطبات محمود ۵۴۴ جلد سوم آدمی ہیں آپ کو تو بار بار کھانا چاہئے تھا۔میں نے کہا بات یہ ہے کہ میرا بٹوہ گم ہو گیا ہے جس میں نقدی تھی اور ٹکٹ بھی تھا۔اس نے کہا یہ بہت افسوس کی بات ہے۔آپ نے مجھے علم نہ دیا میں چونکہ آپ کا ساتھی ہوں اس لئے میرا حق ہے کہ ایسی حالت میں آپ کی مدد کروں چنانچہ وہ زبردستی انہیں ہوٹل میں لے گیا اور کھانا کھلایا اور پھر راستہ میں کھلاتا پلاتا آیا اور ٹکٹ کے متعلق اس نے کہہ دیا آپ کوئی فکر نہ کریں پچھلا کرایہ میں ادا کردوں گا اور آگے کے لئے ٹکٹ لے لوں گا۔کسی جگہ جہاں گاڑی بدلتی تھی غالبا د ہلی کا سٹیشن تھا وہاں جب ٹرنک اٹھایا تو نیچے سے بٹوہ نکل آیا۔آخر سیٹی صاحب یہاں پہنچے بعض دوست ان کے پاس گئے اور سمجھانے لگے۔ادھر مولوی محمد علی صاحب وغیرہ نے انہیں اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔چونکہ سیٹھ صاحب کا احمدیت سے تعلق اخلاص اور محبت کا تھا اس لئے بظاہر باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ معلوم ہوتا۔آدمی تجربہ کار تھے کچھ ظاہر نہ ہونے دیتے۔دونوں خیال کے لوگ سمجھتے کہ ہمارے ساتھ ہیں اتنے میں صدر انجمن احمدیہ کی میٹنگ ہوئی اور اس میں فیصلہ طلب مسائل پیش ہوئے۔ان لوگوں کی عادت تھی کہ جب وہ دیکھتے کہ کوئی بات مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے پیش ہو رہی ہے تو اس کے متعلق مولوی صاحب کی رائے معلوم کرنے کے لئے کتنے مولوی صاحب ہمیں تو اس کے متعلق کچھ علم نہیں آپ اس کی تفصیل اور تشریح کر دیں۔اس پر مولوی صاحب بتا دیتے کہ اس بارے میں ان کا کیا خیال ہے اس کے بعد ان کے ساتھی وہی رائے دے دیتے۔چونکہ کثرت ان کی تھی ہمارے لئے بولنے کا موقع ہی نہ ہوتا۔مولوی محمد علی صاحب کی رائے کی تائید میں برائے دینے والے ڈاکٹر محمد حسین صاحب تھے، شیخ رحمت اللہ صاحب تھے ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے ، خواجہ صاحب تھے ، شروع میں ایک لمبے عرصہ تک خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم بھی ان کے ساتھ رہے اور ان کے بڑے جوشیلے ساتھی تھے ادھر میں اکیلا یا ہم دو آدمی ہوتے تھے ہماری رائے پر کوئی غور ہی نہ کرتا تھا۔نواب صاحب نے مجلس میں جانا چھوڑ دیا تھا ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب باہر ہوتے تھے اس لئے مجلس میں جانے والا آخر میں ہی رہ گیا تھا۔اس دن ان لوگوں نے سیٹھ صاحب پر زور دیا کہ آپ بھی رائے دیں پہلے تو انہوں نے کہا کہ میں کیا رائے دے سکتا ہوں میں دیکھتا ہوں آپ کام کریں۔جب پھر زور دیا تو چونکہ بزنس مین کی سمجھ بڑی تیز ہوتی ہے۔انہوں نے دیکھا کہ یہ تو ان لوگوں نے محول بنا رکھا ہے۔ایک ہی